ہندوتوابھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں نسل کشی کے مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہے، شہر یار آفریدی

138

اسلام آباد: کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ بھارت کی ہندوتوا حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں نسل کشی کے مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہے ، وہ کشمیریوں کو قتل ، ملازمتوں اور روزگار سے محروم اور ان کے گھروں کو مسمار کر رہی ہے ، کشمیر میں صحافیوں اور میڈیا ہاوسز کے گرد گھیرہ تنگ کر دیا گیاہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق شہریار آفریدی نے انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) کے زیراہتمام ”خوف اور آگ کے سائے میں کشمیر“کے عنوان سے اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے نسل کشی کے منصوبے کے تحت بھارتی فوجیوں نے جنوری 2022 ء میں مقبوضہ علاقے میں 27 نوجوانوں کو12فرضی جھڑپوں میں شہید کیا جبکہ دنیا نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے میں ملوث ہے ۔شہریار آفریدی نے کہا کہ فسطائی مودی حکومت نے مسلم اکثریتی کشمیر میں ہندو فسطائی انتظامیہ قائم کر رکھی ہے جس کی سربراہی سول اور پولیس انتظامیہ میں دائیں بازو کے ہندو افسر کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ بھارت عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا چاہتا ہے اور وہ ہندوو ں کو صنعتوں، سیاحت، تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں داخل کر رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں صحافیوں اور میڈیا ہاوسز کے گرد گھیرہ تنگ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی قابض حکومت جموں و کشمیر کے آزادی پسند عوام کے خلاف جنگی جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے جبکہ کشمیر کی نسل کشی پر دنیا کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کی حمایت میں متحد ہے اور یہ حمایت کسی بھی صورت میں جاری رہے گی۔

آزاد جموںوکشمیر کی ساست دان فرزانہ یعقوب نے کہا کہ کشمیریوں کی نسل کشی بلا روک ٹوک جاری ہے اور دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ کس طرح ایک مذموم منصوبے کے تحت کشمیریوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link