ہماری حکومت نے تاریخ میں پہلی بار ایک جامع ایگریکلچر ٹرانفارمیشن پلان بنایا اور اسے ترجیحی بنیادوں پر نافذ کر رہی ہے، وزیراعظم عمرا ن خان

163

اسلام آباد: وزیراعظم عمرا ن خان نے کہا ہے کہ ہماری حکومت نے تاریخ میں پہلی بار ایک جامع ایگریکلچر ٹرانفارمیشن پلان بنایا اور اسے ترجیحی بنیادوں پر نافذ کر رہی ہے، ہماری حکومت کی توجہ برآمدی صنعتوں کے قیام کے لیے خصوصی اقتصادی زونزمیں سرمایہ کاری کو بڑھانا ہے۔ ا ن خیالات کاا ظہار انہوں نے پیر کو اپنی زیر صدارت ترجیحی شعبوں پر جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ زراعت کے شعبے کی میکانائزیشن، معیاری بیج کی فراہمی، پانی کا موثر انتظام اور لائیو سٹاک فارمنگ میں کسانوں کی مدد اس کو زیادہ پیداوار دینے والے معاشی شعبے میں تبدیل کر رہی ہے۔ کسان کارڈ متعارف کرانے، کھاد پر سبسڈی اور مویشیوں کی جینیاتی بہتری کے ساتھ، حکومت کا مقصد پچھلے سال کی ریکارڈ پیداوار کے مقابلے میں اس سال اور بھی زیادہ پیداوار حاصل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں اور کاروبار کرنے میں آسانی پر توجہ دینے کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اس اعتماد کا نتیجہ ہے جو حکومت نے اپنے موثر پالیسی اقدامات سے حاصل کیا ہے۔ اجلاس میں ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان اور خصوصی اقتصادی زونز کے حوالے سے عملدرآمد پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم کو ایگریکلچر ٹرانسفارنیشن پلان پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ معیاری بیج کی فراہمی کیلئے منظوری کے بعد فنڈز کی فراہمی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ لائیو سٹاک کی پیداوار بڑھانے اور جنیاتی بہتری کیلئے سیمن کی درآمد پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔مویشی پال کسانوں کی معاونت کیلئے پنجاب میں 9211 سروس بحال کر دی گئی ہے جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی جلد بحال کر دی جائے گی۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ زراعت میں جدید مشینری کے استعمال میں معاونت کا منصوبہ بھی تقریباً مکمل ہے اور مشینری تقسیم کرنے کا عمل جلد شروع کر دیا جائے گا۔ مشینری کے استعمال سے نہ صرف فی ایکڑ اوسط پیداوا میں اضافہ ہوگا بلکہ کسانوں کی فی ایکڑ مجموعی لاگت میں بھی کمی آئے گی۔ زرعی معاونت کیلئے انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کا نظام بھی تکمیل کے قریب ہے جس کے تحت کسانوں میں آگاہی پھیلانے میں بھی معاونت ملے گی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ زرعی شعبے کی پیداوار میں اضافے کیلئے تحقیقی اداروں میں مجوزہ اصلاحات کا نفاذ بھی تیزی سے جاری ہے۔ اس امر کیلئے چین کی ایگریکلچر ریسرچ اکیڈمی سے تعاون سے زرعی جدتیں متعارف کروائی جائیں گی۔ وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ زرعی تحقیق میں کپاس کی پیداوار میں اضافے اور درآمدی فصلوں کے تعارف و پیداوار پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ جھینگے کی فارمنگ کیلئے پنجاب اور بلوچستان میں ہیچریز قائم کی گئی ہیں جن کا افتتاح جلد کر دیا جائے گا۔ زیتون کی 20 ہزار ایکڑ پر کاشت کیلئے پودوں کی درآمد شروع کر دی گئی ہے۔

وزیر اعظم کو یوریا اور ڈی اے پی کے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف آپریشن اور سمگلنگ کی روک تھام کیلئے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی ۔ وزیرِ اعظم نے اقدامات پر معینہ مدت میں عملدرآمد کو یقینی بنانے اور کھاد کے ذخیرہ اندوزوں و سمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کو تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

خصوصی اقتصادی زونز کے حوالے سے بریفنگ میں وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ ملک میں اس وقت چھوٹے بڑے 21 اکنامک زونز فعال ہیں۔ علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی، رشکئی، دھابے جی اور بوستان چار بڑے کنامک زونز ہیں۔ سرمایہ کار بورڈ کی طرف سے ون سٹاپ شاپ ماڈل تیار ہے جس کا افتتاح جلد کر دیا جائے گا۔ ون سٹاپ شاپ سرمایہ کاروں کو بجلی، گیس پانی اور تعمیراتی پرمٹ کے حصول میں معاونت کرے گا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ وفاقی و صوبائی اداروں سے منظوریوں کیلئے ایک مشترکہ کمپلائنس رجیم بھی بنایا گیا ہے۔ اجلاس میں این او سی اور کمپلائنس کی منظوری کیلئے مینجمنٹ کمپنیز کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ وزیرِ اعظم نے اقدامات پر جلداز جلد عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link