ڈیڈ لاک نہیں ڈائیلاگ ، مخاصمت نہیں مفاہمت سے کام لینا پڑے گا،پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی میں خط کے معاملے پر ان کیمرہ بریفنگ دی جائے، نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف کا قومی اسمبلی میں خطاب

142

اسلام آباد: نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی میں مسلح افواج کے سربراہان اور ڈی جی آئی ایس آئی کی موجودگی میں خط کے معاملے پر ان کیمرہ بریفنگ دی جائے، اگر اس معاملے میں ہمارے ملوث ہونے کے ثبوت کا شائبہ تک ملا تو سب کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائوں گا،

برطانیہ ، امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ ہمارے تجارتی اور اقتصادی تعلقات قائم ہیں، ہم بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن مسئلہ کشمیر کے حل تک خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا، جمہوریت اور معیشت کو آگے بڑھانے کے لئے ڈیڈ لاک کی بجائے ڈائیلاگ اور مخاصمت کی بجائے مفاہمت سے کام لینا پڑے گا،

پنشنرز کو فوری ریلیف دینے کے لئے سول اور آرمی کے پنشنرز کی پنشن میں یکم اپریل سے 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا اور نجی شعبہ بھی ایک لاکھ تک تنخواہ وصول کرنے والے اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کرے، بطور خادم پاکستان چاروں صوبوں کو لے کر چلوں گا اور پورے ملک کو یکساں ترقی کے راستے پر ڈالیں گے، طلباءکو مزید لیپ ٹاپ دیں گے۔

پیر کو قومی اسمبلی میں قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں وزیراعظم میاں شہباز شریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے کہ اس نے اپنی کمال مہربانی سے اس ایوان میں فرنٹ بنچز پر قائدین کی کمٹمنٹ اور کروڑوں لوگوں کی دعائوں سے پاکستان کو بچا لیا ہے۔

یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی، حق کی فتح ہوئی اور باطل کو شکست ہوئی۔ آج کا دن پوری قوم کے لئے عظیم دن ہے کہ اس ایوان نے جھرلو کی پیداوار وزیراعظم کو آئین اور قانون کے ذریعے اپنے گھر کا راستہ دکھایا ہے۔

اس سے بڑھ کر خوشی کی اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ آج روپے کی قدر ڈالر کے بڑھی ہے۔ ڈالر آٹھ روپے نیچے گیا ہے۔ یہ اللہ کا بے پایاں فضل و کرم اور 22 کروڑ عوام کا اس ایوان پر بھرپور اعتماد کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا آئین شکنی کالعدم قرار دینے اور نظریہ ضرورت کو دفن کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ جس دن عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا اس دن کو پاکستان کے آئین کی سربلندی کا دن منانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتہ سے ڈرامہ اور ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ پر جھوٹ بولا جارہا تھا کہ پتہ نہیں کون سا خط آیا ہے، آج بھی ڈپٹی سپیکر نے خط لہرایا ہے اور سیکرٹری قومی اسمبلی کو کہا ہے کہ یہ خط لیڈر آف دی اپوزیشن کو دکھا دیں مگر میں نے ابھی تک وہ خط نہیں دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میری آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے اس حوالے سے ملاقات 8 مارچ سے کئی دن پہلے ہوئی۔ 3 مارچ کو مسلم لیگ (ن) نے مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا اور پیپلز پارٹی نے اپنے اجلاس میں فیصلہ کیا اور پی ڈی ایم میں ہم یہ معاملہ لے کر گئے اور فیصلہ ہوا کہ یہ قرارداد جمع کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے فیصلے بہت پہلے ہو چکے تھے۔

پوری قوم اور اس ایوان کے ایک ایک رکن کو حق حاصل ہے کہ حقیقت جاننا چاہتے ہیں تاکہ یہ بحث ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں بطور منتخب وزیراعظم کہتا ہوں کہ پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی میں ڈی جی آئی ایس آئی اور مسلح افواج کے سربراہوں کی موجودگی میں ان کیمرہ بریفنگ دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس بات کا شائبہ ملا اور ہمارے ملوث ہونے کا ثبوت ملا تو میں سب کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائوں گا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے قائد میاں محمد نواز شریف کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے تمام اتحادی جماعتوں کے اراکین اور رہنمائوں کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے ملک کی وکلاء برادری، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ہماری جدوجہد کا ہراول دستہ تھے۔ پورے ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے لاکھوں وکلاء کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ قرض کی زندگی کوئی زندگی نہیں ہے، زندگی وہی ہے جو خون پسینے کے رزق سے حاصل ہوتی ہے۔

اگر ہم نے زندہ رہنا ہے تو ایک باوقار اور خودمختار قوم کی طرح رہنا ہے اس کے بغیر ہم کھویا ہوا مقام حاصل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہمارے لوگوں پر چرس اور بھنگ جیسے مقدمات بنائے گئے۔

یہ اس دور میں ہوا جو نیا پاکستان لانا چاہتے تھے اور انصاف دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نہ کوئی غدار ہے اور نہ کوئی غدار تھا۔ ہم نے اس ملک کی جمہوریت اور معیشت کو آگے بڑھانا ہے تو ڈیڈ لاک نہیں ڈائیلاگ ، مخاصمت نہیں مفاہمت سے کام لینا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ اللہ جانے کیسی تبدیلی کی ہوا چلی معیشت اور معاشرہ تباہ ہوگئے۔ معاشرے کے اندر اتنا زہر پھیل گیا کہ سالہا سال زہر آلود پانی نکالنے میں لگ جائیں گے۔ ہم نے حالات کا درست ادراک نہ کیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

معیشت کی صورتحال انتہائی گھمبیر ہو چکی ہے، ڈالر کی قدر کم ہونے میں ہمارے سیاسی قائدین کی محنت شامل ہے۔ انہوں نے بلاول بھٹو زرداری، خالد مگسی، امیر حیدر ہوتی، محسن داوڑ ، اختر مینگل، شاہ زین بگٹی اور مولانا اسعد محمود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے ملک کی ڈوبتی کشتی کو پار لگانا ہے تو اس کے لئے اتحاد کے علاوہ کوئی نسخہ کارگر ثابت نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر اللہ نے چاہا تو انتھک محنت سے صورتحال بہتری میں بدل جائے گی۔ شہباز شریف نے کہا کہ اس ایوان میں سابق وزیراعظم میری جگہ تھے اور میں اپوزیشن لیڈر کی نشست پر تھا میں نے سوچ سمجھ کر میثاق معیشت کی پیشکش کی تھی اس تجویز کو حقارت سے نہ ٹھکرایا جاتا تو معیشت کا اتنا برا حال نہ ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان میں پاکستانیت کا جوش اور جذبہ ہوتا اور یہ رعونیت میں نہ ہوت تو آج پاکستان آگے جارہا ہوتا اور لاکھوں پاکستانی بیروزگار نہ ہوتے۔ اس وقت پاکستان کو بدقسمتی سے رواں مالی سال میں تاریخ کے سب سے بڑے بجٹ خسارہ کا سامنا ہے۔

کرنٹ اکائونٹ خسارہ ، دو کروڑ لوگ بیروزگار اور کروڑوں پاکستانی مہنگائی کا شکار ہیں۔ لاکھوں کروڑوں بچے بھوک سے روٹی کے بغیر سوتے رہے۔ پتہ نہیں ان کو نیند کیسے آتی تھی۔ ہمیں ان بچوں کا خیال کرنا ہوگا پتہ نہیں اشیاء کی قیمتیں کہاں پہنچ چکی ہیں۔ پونے چار سال میں کھربوں کے قرضے لئے گئے۔

انہوں نے ایک اینٹ بھی نہیں لگائی۔ مجموعی طور پر پاکستان نے 2018ء تک 25 ہزار ارب روپے قرض لیا۔ عمران خان کی حکومت نے پونے چار سالوں میں بیس ہزار ارب روپے کا اضافہ کیا ہے۔ اس طرح کی تصویر کشی سے دل دہل جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں 500 ملین ڈالر کمی آئی۔

کاشتکار کھاد کے لئے مارے مارے پھرتے رہے۔ ہم گندم اور چینی کے ایکسپورٹر تھے، اب ہم امپورٹر بن چکے ہیں۔ چینی 52 سے 100 روپے، آٹا 80 سے 100 روپے تک پہنچ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ہم ترقی کے نئے دور کا آغاز کر رہے ہیں۔ ہم مائوں اور بیٹیوں کے دکھ درد کا مداوہ کریں گے۔ کسان اور مزدوروں کی مشکلات دور کریں گے۔ 1940ء میں چرچل کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے آج جس مقام پر ملک کو پہنچایا ہے تو ہمارے پاس دکھوں اور آنسوئوں کے علاوہ کچھ نہیں ۔

مگر محنت اور ایمانداری سے کوشش کی تو ضرور کامیاب ہوں گے۔ یہی وہ واحد راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ہم سے سوال کریں گے کہ یہ کیسے ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ 1974ء میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی اور میاں محمد نواز شریف نے تمام تر دبائو اور ترغیب کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہا کہ مسٹر پریزیڈنٹ آپ کی پانچ ارب ڈالر کی پیشکش کا شکریہ ۔

انہوں نے پاکستان کے مفاد میں ملک کو ہمیشہ کے لئے ناقابل تسخیر بنادیا۔ ہم نے ماضی میں اٹھارہویں ترمیم مل کر کی جس سے صوبوں کو حقوق ملے۔ ہم نے نیا این ایف سی ایوارڈ دیا۔ اگر سابق حکومت کا جذبہ ہوتا تو یہ نیا این ایف سی ایوارڈ دے سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب نے مل کر انتخابی اصلاحات منظور کرائیں۔

سی پیک کے تحت 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لے کر آئے۔ جس طرح یہ سب کیا اس طرح آئندہ بھی سب کچھ کریں گے۔ ”بیگرز کین ناٹ بھی چوزرز” کہنے والے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی میں اندھیرے ختم کرنے کے لئے بجلی کے کارخانے لگائے۔

پرانے پاکستان میں چینی اور گندم ایکسپورٹ ہوتی تھی، نواز شریف کے دور میں ہسپتالوں میں مفت علاج اور ادویات شروع کی گئیں۔ ہم ملک کے طول و عرض میں ہسپتال اور درسگاہیں بنائیں، ہم نے لیور اینڈ کڈنی انسٹیٹوٹ اور جگر کی پیوند کاری کے لئے ادارے بنائے جنہیں انہوں نے برباد کردیا ہے۔

ہم ہمت کریں گے اور آگے بڑھیں۔ میں غریب آدمی کی اشک شوئی کے لئے کم سے کم ماہانہ اجرت 25 ہزار روپے کر رہا ہوں۔ اس کا اطلاق یکم اپریل سے ہوگا۔ اللہ سرمایہ کاریوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی اور ہمت دے۔

سرمایہ کاری کے لئے پاکستان کو شاندار ملک بنائیں گے، تمام نجی شعبے ایک لاکھ ماہانہ تک تنخواہ حاصل کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کریں۔ پنشنروں کو سابقہ دور میں نظر انداز کیا گیا، سول اور فوجی پنشنرز کی پنشن میں دس فیصد اضافہ بھی یکم اپریل سے لاگو ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان کے بازاروں اور محلوں میں رمضان پیکج کے نام پر سستا آٹا لے کر آئیں گے۔ ہم نے سستے ترین بجلی کے منصوبے لگائے اور انہوں نے ایل این جی نہیں منگوائی جس کی وجہ سے مہنگی بجلی پیدا ہو رہی ہے۔

بجلی مہنگی ہونے سے کارخانوں اور ایکسپورٹرز کی تباہی ہوئی ہے، یہ ایوان وفاق پاکستان کا خوبصورت گلدستہ ہے اس سے چاروں صوبوں کی نمائندگی، چھوٹے صوبوں میں ترقی کا عمل مفقود ہے۔ پنجاب بڑا بھائی ضرور ہے مگر پنجاب پاکستان نہیں ہے، پاکستان سندھ، بلوچستان اور کے پی پاکستان ہے۔

میں بطور خادم پاکستان چاروں صوبوں کو لے کر چلوں گا اور پورے ملک کو ترقی کے راستے پر ڈالیں گے۔ نوجوان نسل کے ہاتھوں میں کلاشنکوف اور افیون کی بجائے مزید لیپ ٹاپ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بارہ لے کر آئیں گے۔ ہم نے 2013ء میں برسراقتدار آکر اس پروگرام نام وہی رکھا اس کے لئے بڑا دل اور سخاوت چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پیڈ انٹرن شپ کے پرگرام کو جدید بنیادوں پر استوار کریں گے۔ خارجہ محاذ پر ہمیں ناکامیوں کا سامنا رہا، دوست ہمیں چھوڑ گئے۔ چین نے ہمیشہ پاکستان کا نہ صرف اقتصادی طور پر ساتھ دیا بلکہ ہر عالمی فورم پر ہماری حمایت کی۔ یہ دوستی دونوں ممالک کے عوام کے دلوں میں بستی ہے۔

یہ دوستی ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ پچھلی حکومت نے اس دوستی میں ضعف پیدا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کیوں ایسا کام کیا کہ ہمارا دوست ہم سے دور رہ جائے۔ یقین دلاتا ہوں کہ یہ دوستی تاقیامت قائم رہے گی اور سی پیک کو پوری طاقت کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔

سعودی عرب ہمارا انتہائی دیرینہ اور شفیق دوست ملک ہے، پاکستان نے بھارت کے پانچ دھماکوں کے مقابلے چھ ایٹمی دھماکے کرکے دانٹ کھٹے کئے تو اس وقت سعودی عرب نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ آپ فکر نہ کریں ہم آپ کی سارا سال تیل کی ضروریات پوری کریں گے۔ اس کے بعد سابق وزیر خارجہ کا یہ بیان افسوسناک ہے کہ کشمیر پر مذاکرات ہم سعودی عرب کے بغیر کریں گے۔

ہم سعودی عرب کی فراخدلانہ محبت اور امداد کو ساری عمر نہیں بھولیں گے۔ ہم سعودی عرب کے فرمانروا اور ولی عہد کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نے کشمیر کے موقف پر ہمیشہ پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے۔ متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، اومان سمیت تمام خلیجی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو وسعت دیں گے۔

ایران کے ساتھ بھی تجارتی اور سفارتی تعلقات کو بہترین بنائیں گے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے قیام پاکستان سے لے کر اب تک بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات صحیح نہیں بن سکتے۔

نواز شریف نے جب بھارت کے ساتھ امن کا ہاتھ بڑھایا تو اس کے ساتھ ہی انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حوالے سے ایک زبردست تقریر کی تھی۔ اس کے برعکس اگست 2019ء میں آرٹیکل 370 کے تحت جب کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی تو ہم نے سرینگر ہائی وے کے علاوہ کچھ نہیں کیا اور نہ ہی سنجیدہ کوشش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن مسئلہ کشمیر کے حل تک خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا، ہم ہر فورم پر اپنے کشمیری بہن بھائیوں کی آواز اٹھائیں گے اور انہیں سفارتی اور اخلاقی سپورٹ فراہم کریں گے۔

وزیراعظم نے بھارتی ہم منصب کو دعوت دی کہ خطے میں غربت ، بیروزگاری کے خاتمے اور خوشحالی کے لئے مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنا چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کے لئے بھی آواز اٹھائے گے۔ ہمیں پاکستان میں تقسیم در تقسیم کو ختم کرنا ہے۔

ہمیں اختلافات کی لکیر کو ختم کرنا ہوگا اور اتفاق سے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ ہمارے تاریخی تعلقات ہیں، اس میں اتارچڑھائو آتے رہتے ہیں، ہمیں برابری کی سطح پر امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کرنا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے، وہاں کے لاکھوں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ، ہمیں یک آواز ہوکر ان کے حق کی آواز کی بات کرنا ہے کیونکہ وہاں کے حالات اگر خراب ہوگئے تو پاکستان پر اس کے اثرات پڑیں گے۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link