پی ڈی ایم تھکے ہوئے پہلوانوں کا ٹولہ ہے، ای وی ایم کے بارے میں اپوزیشن اپنے تحفظات خود دور نہیں کرنا چاہتی، الیکشن کمیشن کو ای وی ایم کے بارے میں جو مدد درکار ہوگی فراہم کریں گے، وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین کی میڈیا سے گفتگو

92

اسلام آباد۔: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم تھکے ہوئے پہلوانوں کا ٹولہ ہے، ای وی ایم کے حوالے سے اپوزیشن اپنے تحفظات خود دور نہیں کرنا چاہتی، الیکشن کمیشن کو ای وی ایم کیلئے جو بھی مدد درکار ہوگی، فراہم کریں گے، سابقہ دور کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے آج عوام مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں، شاہد خاقان عباسی مہنگائی کا ورد کر رہے ہیں، آج مہنگائی ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہے، ن لیگ اور پی پی پی اپنے دور میں پالیسیاں بہتر رکھتیں تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس کا بنیادی ایجنڈا بلدیاتی انتخابات تھا، خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات 19 دسمبر کو ہو رہے ہیں جہاں 17 اضلاع میں 37 ہزار 752 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے، مجموعی طور پر تحصیل چیئرمین اور میئر کے لئے 689 امیدواروں میں مقابلہ ہے جبکہ 19282 امیدوار نیبر ہڈ کونسلز میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا نیا سٹرکچر آئے گا، اس حوالے سے اتحادیوں سے بات ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پنجاب کا نیا لوکل گورنمنٹ ایکٹ آئندہ چند دنوں میں منظور ہو جائے گا جس سے پنجاب میں مقامی حکومتوں کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے بلدیاتی الیکشن ای وی ایم پر ہوں گے، پنجاب حکومت نے قانون میں پہلے ہی ترمیم کر دی ہے۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ الیکشن کمیشن درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، ٹیکنیکل کمیٹیوں کی تشکیل سے معلوم ہوگا کہ کس طرح ہم نے ای وی ایم پر الیکشن کروانا ہے، اس حوالے سے جو بھی مدد درکار ہوئی، حکومت فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں مہنگے الیکشن کا تاثر غلط ہے، ای وی ایم پر الیکشن کی لاگت عمومی الیکشن پر آنے والی لاگت کے برابر ہوگی، ہمیں بار بار الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں خریدنا نہیں پڑیں گی اور اس طرح الیکشن کا پراسیس مزید سستا ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے سماجی بہبود کے مختلف پروگراموں کے بارے میں بریفنگ دی۔

انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام اور صحت کارڈ پروگرام بڑا منصوبہ ہے، پنجاب کے لئے صحت کارڈ کا ساڑھے تین سو ارب کا پراجیکٹ ہوگا، پنجاب کے تمام لوگوں کو دس لاکھ روپے تک علاج کی سہولت میسر ہوگی، ایسی سہولت کسی ترقی یافتہ ملک میں بھی میسر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ بلوچستان اور سندھ حکومتیں بھی اس پروگرام کا حصہ بنیں، بلوچستان نے اپنی آمادگی ظاہر کر دی ہے لیکن سندھ نے ابھی تک آمادگی ظاہر نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا کردار عوام مخالف ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ مفت علاج کی سہولت ہر پاکستانی کا حق ہے اس لئے سندھ حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس پروگرام میں شامل ہو تاکہ سندھ کے لوگوں کو بھی اس کا فائدہ پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا پروگرام ہوگا جس میں وزیروں اور مشیروں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، شاید اسی وجہ سے سندھ حکومت پریشان ہے۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ کور کمیٹی کے اجلاس میں مہنگائی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا، قیمتوں کے حساس اشاریہ انڈیکس میں 0.67 فیصد کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ پاکستان کے اندر عالمی مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے پر مرکوز ہے، آنے والے دنوں میں مہنگائی کی صورتحال میں مزید بہتری آئے گی اور عام آدمی کو فائدہ پہنچے گا۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی مہنگائی کا ورد کر رہے ہیں، اس کی اہمیت اس لئے نہیں کہ آج مہنگائی ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی اپنے دور میں پالیسیاں بہتر رکھتیں تو آج ہمیں بیرون دنیا پر انحصار نہ کرنا پڑتا۔ انہوں نے شاہد خاقان عباسی کو دعوت دی کہ وہ پاکستان بیورو آف شماریات کے ساتھ بیٹھ جائیں کیونکہ ن لیگ کے اکثر لوگوں نے کبھی اخبار بھی پورا نہیں پڑھا، ان کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ پہلے سسٹم سمجھ لیں، قیمتوں کے حساس اشاریہ انڈیکس میں 40 فیصد اعداد و شمار کراچی سے آتے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی نے جب گیس کی وزارت سنبھالی تھی تو اس پر ایک روپے کا قرضہ نہیں تھا، جس دن یہ وزارت چھوڑ کر گئے تو 157 ارب روپے کا قرضہ چھوڑ کر گئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے جو پالیسیاں دیں اور قرضے لئے آج تک ان سے باہر نہیں نکل پا رہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پارلیمانی پارٹی میں شرکت کے لئے تیار نہیں، یہ تھکے ہوئے پہلوانوں کا ٹولہ ہے، ای وی ایم کے حوالے سے اپوزیشن اپنے تحفظات خود دور نہیں کرنا چاہتی۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپوزیشن کو بڑی اصلاحات پر دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئے اور بات کرے لیکن وہ اصلاحات کی طرف نہیں آ رہے، وہ نظام بدلنا ہی نہیں چاہتے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ای وی ایم پر الیکشن کمیشن کا نکتہ نظر آ گیا ہے، ٹیکنیکل کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں، ای وی ایم کے لئے جو بھی فنڈز چاہئے ہوں گے، ہم دیں گے۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link