پاکستان کو سائبر سکیورٹی ماہرین کی ضرورت ہے، جیسے جیسے پاکستان ڈیجٹیلائز ہوگا ویسے ویسے سائبر حملے بڑھ جائیں گے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا ڈیجیٹل پاکستان سائبر ہیکاتھان کی تقریب سے خطاب

252

اسلام آباد۔: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان کو سائبر سکیورٹی ماہرین کی ضرورت ہے، جیسے جیسے پاکستان ڈیجٹیلائز ہوگا ویسے ویسے سائبر حملے بڑھ جائیں گے، نئی نسل دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں کو بہتر طور پر سمجھ رہی ہے، آئی ٹی کے شعبہ میں ترقی سے پاکستان کی آئی ٹی کی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہوگا، اداروں کو ڈیجٹیلائز کرنے کے ساتھ ساتھ سائبر سکیورٹی کی جانب بھی اپنی توجہ مبذول کرنی چاہئے، ہونہار طلبہ کو 50 ہزار شکالر شپس دی جارہی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں ڈیجیٹل پاکستان سائبر سکیورٹی ہیکاتھان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وفاقی سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی سہیل راجپوت، ممبر آئی ٹی سید جنید امام، اگنائٹ کے سی ای او عاصم شہزاد حسین، سائبر سکیورٹی اور آئی ٹی ماہرین نے شرکت کی۔

صدر مملکت نے کہاکہ موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ہمیں سائبر سکیورٹی ماہرین درکار ہیں، یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو ہدایت کی ہے کہ سائبر سکیورٹی کی تعلیم کو ترجیح دیں، پاکستان اس شعبہ میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائبر حملے بڑھنے کے باوجود دنیا کے پاس ٹیکنالوجی کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے،

بھارت ہمارے معاشرے میں افراتفری پھیلانا چاہتا ہے، سوشل میڈیا پر فیک نیوز چلائی جاتی ہیں ۔ صدر مملکت نے کہاکہ ملک کو آئی ٹی اور سائبر سکیورٹی کے ماہرین کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سائبر ہیکاتھان کے انعقاد پر وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اس کے دیگر پارٹنرز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ٹیلنٹ کی نشاندہی کا موقع ملا ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہاکہ نوجوان دنیا کو تیزی سے سمجھتے ہیں، جنریشن گیپ کی وجہ سے فیصلہ ساز پیچھے ہیں۔ انہوں نے سائبر سکیورٹی کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان سائبر حملوں کی زد میں ہے، ایف بی آر اور نیشنل بینک پر سائبر حملہ اس کی مثال ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان جتنا ڈیجیٹلائز ہوگا اتنے سائبر حملے بڑھیں گے، نادرا کے ڈیٹا پر بھی حملہ کیا گیا۔ صدر مملکت نے کہاکہ مالیاتی اداروں، ٹیلی کام اور یوٹیلی اداروں کا ڈیٹا بھی محفوظ نہیں ہے۔

صدر مملکت نے نوجوانوں سے کہاکہ وہ پڑھ لکھ کر ملک کی خدمت کریں، پاکستان کو کوئی ترقی سے نہیں روک سکتا، آئی ٹی کے شعبہ میں ترقی کے نتیجے میں پاکستان کی آئی ٹی کی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ دنیا بھر میں کریڈٹ کارڈ اور بینکوں کا ڈیٹا چوری ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود 2018ء میں روزانہ 5 ٹریلین ڈالر کی آن لائن ٹرانزیکشنز ہوتی تھی، ہمیں اداروں کو ڈیجٹیلائز کرنے کے ساتھ سائبر سکیورٹی کی جانب بھی اپنی توجہ مبذول کرنی چاہئے۔

صدر مملکت نے کہاکہ سکیورٹی انسان کا پرانا مسئلہ ہے، آج کے دور میں کسی کی پرائیویسی نہیں رہی، پورے معاشرے کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے ۔ سیکرٹری وزارت آئی ٹی سہیل راجپوت نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت نے آئی ٹی کے شعبہ میں ہمیشہ گہری دلچسپی لی ہے۔ وزیراعظم پاکستان کا بھی یہ وژن ہے،

ہماری آئی ٹی کی برآمدات بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ایف بی آر اور نیشنل بینک پر ہیکرز کا حملہ ہوا، وزارت آئی ٹی سائبر سپیس کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کررہی ہے، آئندہ سال جون تک نیشنل سیٹ قائم کریں گے، شعبہ جاتی سیٹ بھی قائم کئے جائیں گے، ادارہ جاتی رابطوں کو بڑھایا جائے گا، اس سلسلے میں آئندہ چند ماہ میں رولز بھی وضع کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ پہلی بار سائبر سکیورٹی ہیکاتھان کا انعقاد کیا گیا، ہمیں اس بارے میں نجی شعبے کا بھی تعاون حاصل رہا۔ سائبر سیکورٹی ہیکاتھان کے لئے لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں ایک ہزار ٹیموں نے رجسٹریشن کی جبکہ 475 نے مقابلے میں شرکت کی، حتمی مقابلے میں بہترین ٹیلنٹ سامنے آیا ہے۔ قبل ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ڈیجیٹل پاکستان سائبر سکیورٹی ہیکاتھان کے مقابلے میں مختلف کیٹیگریز میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے آئی ٹی ماہرین میں انعامات تقسیم کئے۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link