پاکستان پانی کی قلت کا شکار 10ممالک میں شامل ہے، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی واٹر کانفرنس کے حوالے سے بریفنگ

57

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے اقوام متحدہ کی آئندہ سال مارچ میں منعقد ہونے والی 2023واٹر کانفرنس کی اہمیت پر زور دیتے اس بات کو اجاگر کیا کہ پاکستان دنیا کے پانی کی قلت کا شکار 10 ممالک میں شامل ہے۔

انہوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں آئندہ سال 22مارچ سے شروع ہونے والی 3روزہ واٹر کانفرنس کے حوالے سے بریفنگ کے دوران کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی اور دیگر پیش رفتوں کے باعث ہمیں موسم گرما میں سیلاب اور سردیوں میں خشک سالی کا سامنا رہتا ہے اور ہمیں اس بات پر تشویش ہے کہ دنیا پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 6 جو صاف پانی اور صفائی سب کے لیے ہے سے متعلق ہے کے نفاذ کے لیے اقدامات نہیں کیے ہیں ۔

انہوں نے واٹر گورننس کے مسائل اس مسئلہ کو شامل کرنے کی اہمیت سمیت مختلف ممالک کے درمیان بہنے والے دریائوں اور سرحدوں پر واقع آبی ذخائر کے پانی پر تعاون پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کے درمیان آبی تعاون وسیع تر علاقائی انضمام، امن اور پائیدار ترقی کے ساتھ ساتھ علاقائی سلامتی کے چیلنجزسے نمٹنے اور موسمیاتی تبدیلی کے موافقت کی حمایت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس وقت دنیا بھر میں تازہ پانی کا 60 فیصد مختلف ممالک سے گزرنےوالے دریائوں اور سرحدوں پر واقع جھیلوں میں ہے ۔ دنیا بھر میں 286 دریا اور جھیلیں اور 592 زیر زمین پانی کے نظام ایک سے زیادہ ممالک کی سرزمین میں واقع ہیں اور ایسے ممالک کی تعداد 153 ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے زیادہ تر آبی وسائل دو یا دو سے زیادہ ممالک کے درمیان مشترک ہونے کے ساتھ پانی کی بڑھتی ہوئی کمی پر قابو پانے کے لیے مختلف ممالک کے درمیان آبی تعاون کی فوری ضرورت ہے اور اس سلسلے میں 3چیزیں مالی معاونت، ٹیکنالوجی تعاون اور پارٹنرشپ بہت اہم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ کانفرنس میں آپ پانی پر معاہدے کی منظوری اور اس پر عملدرآمد کے لیے روڈ میپ دیں گے۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link