پاکستان فلاحی ریاست کے طورپر دنیا کے لئے مثال بنے گا ، آنے والا وقت قومی صحت کارڈ جیسے ہمارے اقدامات کی افادیت ثابت کرے گا، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی شہریو ں کو اس طرح کی ہیلتھ انشورنس میسر نہیں ، وزیراعظم عمران خان

111

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ پاکستان فلاحی ریاست کے طورپر دنیا کے لئے مثال بنے گا ، آنے والا وقت قومی صحت کارڈ جیسے ہمارے اقدامات کی افادیت ثابت کرے گا، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی شہریو ں کو اس طرح کی ہیلتھ انشورنس میسر نہیں ، ملک کاپیسہ لوٹنے والے حکمران کھانسی کا علاج کرانے بھی باہر جاتے ہیں ، ان کا سارا خاندان باہر بیٹھا ہے، پاکستان کو ایسی فلاحی ریاست بنائیں گے جس میں ریاست کمزور اور غریب کی ذمہ داری لے اور قانون کی حکمرانی ہو۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں نیا پاکستان قومی صحت کارڈ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کے ذریعے اسلام آباد، پنجاب، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور تھرپارکر کے تمام گھرانوں کو 10 لاکھ روپے تک کی صحت کی سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وفاقی وز اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کے علاوہ وفاقی وزرا اور معاونین خصوصی سمیت اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ صحت کارڈ کے اجرا پر عثمان بزداراور ان کی ٹیم اور وفاقی وزارت صحت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ یہ بہت بڑاقدم ہے۔ صحت کارڈ کے ذریعے ہر خاندان کو 10 لاکھ روپے تک کے مفت علاج کی سہولت میسر ہوگی ۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں نے برطانیہ کا نیشنل ہیلتھ سسٹم قریب سے دیکھا ہے اور میں اس سے بڑا متاثر تھا لیکن جو نظام ہم لے کر آئے ہیں ، یہ اس سے بھی بڑھ کرہے۔ برطانیہ میں شہریوں کے لئے صرف سرکاری ہسپتالوں میں علاج مفت ہے جبکہ ہم نے جو ہیلتھ کارڈ متعارف کرایا ہے اس کے ذریعے شہری نہ صرف سرکاری بلکہ پرائیویٹ ہسپتال سے بھی مفت علاج کی سہولت حاصل کر سکیں گے اور ہیلتھ انشورنس کے لئے کوئی پریمیم بھی نہیں دینا پڑے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ کارڈ امیر اور غریب کی تفریق کے بغیر سب کے لئے ہے۔ انہو ں نے کہا کہ میں نے سرکاری ہسپتالوں کی تنزلی کا سفر دیکھا ہے۔ پہلے سرکاری ہسپتال بہت بہتر ہو تے تھے لیکن وقت کے ساتھ امیروں کے لئے پرائیویٹ ہسپتال بن گئے جبکہ سرکاری ہسپتال صرف غریبوں کے لئے رہ گئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کی حالت یہ ہو گئی کہ ان میں ڈاکٹرز نہیں اور پسماندہ علاقوں میں صحت کی سہولیت نہ ہونے کے برابر ہیں۔ میانوالی سے علاج کے لئے لوگوں کو راولپنڈی آنا پڑتا تھا ۔ پورا سسٹم صرف ایلیٹ کلاس کو سہولیات فراہم کرتا تھا اور غریب صرف ٹھوکریں کھانے کے لئے رہ گیا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کسی مقصد کے لئے بنا تھا ، بھارت کے مسلمانوں نےپاکستان کے لئے ووٹ دیا تھا جبکہ انہیں معلوم بھی تھا کہ وہ وہیں رہ جائیں گے۔ ماضی میں کسی نے اس وژن کے بارے میں نہیں سوچا جس کے تحت پاکستان بنا تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب میں نے شوکت خانم ہسپتال کے قیام کے لئے جدوجہد شروع کی تو پاکستان میں کینسر کا علاج نہیں ہوتا تھا جس کی وجہ سے مجھے اپنی والدہ کو برطانیہ لے جانا پڑا۔ عام آدمی مہنگے علاج کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا تھا، اس لئے میں نے کینسر ہسپتال کے قیام کا سوچا ۔ جب ہم نے یہ ہسپتال شروع کیا تو پہلے چیف ایگزیکٹو جن کا تعلق بیرون ملک سے تھا نے کہا کہ اگر 5 فیصد سے زیادہ مریضوں کا مفت علاج کرنے کی کوشش کی گئی تو 3 ماہ میں شوکت خانم ہسپتال بند ہو جائے گا۔ تین ماہ بعد وہ چیف ایگزیکٹو تو چلے گئے لیکن وہ کینسرہسپتال آج بھی سالانہ 10 ارب روپے غریبوں کے مفت علاج پر خرچ کرتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں حکمران انتظار کرتے تھے کہ خوشحالی آئے گی توپاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں گے،ہم نے پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست بنانے کاآغاز کردیا ہے۔ اس مقصد کے لئے رحمت اللعالمینﷺ اتھارٹی قائم کی ہے جو تعلیمی اداروں میں نبی کریم ﷺ کی سیرت کے حوالے سے تعلیم و آگاہی فراہم کر ےگی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ نے کمزور طبقے کی ذمہ داری لی اور قانون کی حکمرانی قائم کی ۔ پاکستان میں طاقتور کے لئے الگ قانون تھا اورامیر و غریب میں فرق بڑھتا گیا۔ آج ہم نے صحت کارڈ کا جو تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ آنے والا وقت اس کی افادیت ثابت کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کا تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب عام آدمی ریاست کے ساتھ تعلق محسوس کرے۔ماضی میں حکمران پیسہ لوٹ کر باہر لے گئے ، وہ اپنا علاج بھی بیرون ملک کراتے ہیں۔انہیں عام آدمی کی مشکلات احساس نہیں ہے۔ ہم نے جو فلاحی اقدامات کئے ان کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ۔ ہیلتھ انشورنس پر ساڑھے چار سو ارب روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا تعلق ایک پسماندہ علاقے سے ہے اور وہ عام آدمی کی مشکلات اور تکالیف سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ان کے خلاف جیسےمہم چلائی گئی ایسی کسی وزیراعلیٰ کے خلاف نہیں چلائی گئی لیکن جب سروے کی رپورٹ آئی تو پتہ چلا کہ وہ نمبرون وزیراعلیٰ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو عاجزی پسند ہے ، جو پہلے وزیراعلیٰ تھا وہ ٹوپیاں اور بوٹ پہن کر پھرتا تھااور کھانسی کا علاج کرانے بھی باہرجاتا تھا۔ ان کا سارا خاندان باہر بیٹھا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ صحت کارڈ ایک پوراہیلتھ سسٹم ہے ، اس سے صحت کا پورانظام بہتر ہو گا۔ سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں مقابلے کی فضا سے صحت کا پورا نظام بہتر ہو گا اور پسماندہ علاقوں میں بھی پرائیوٹ ہسپتال بنیں گے کیونکہ لوگوں کے پاس علاج کرانے کے لئے پیسہ موجود ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب میں پانچ نئے زچہ وبچہ ہسپتال بنائے جا رہے ہیں کیونکہ صوبے میں دوران زچگی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔ پرائیویٹ ہسپتالوں کو بھی مراعات دی جائیں گی تاکہ پسماندہ علاقوں میں بھی پرائیویٹ ہسپتال بن سکیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان فلاحی ریاست کے طور پر پوری دنیا کے لئے ایک مثال بنے گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے تقریب سے خطاب کرتےہوئے کہا کہ صحت کارڈ عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے وزیراعظم کا خواب ہے، آج راولپنڈی ڈویژن کے اضلاع کے عوام کو بھی صحت کارڈ کا اجرا کیا جا رہا ہے۔ 56 ہسپتال صحت کارڈ کے پینل پر ہوں گے۔ پنجاب حکومت نے 31 اضلاع کے 11کروڑ عوام کی صحت کے لئے 400 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ مارچ کے آخر تک پورے پنجاب میں صحت کارڈ کی سہولت میسر ہو گی۔ پنجاب حکومت نے صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دی ہے اور یہ صوبہ اس لحاظ سے ایک مثال بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں صحت کے شعبہ کے لئے 200 گنا زیادہ بجٹ مختص کیا گیا ہے اور 23 نئے ہسپتال اور 8 زچہ وبچہ ہسپتال بنائے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبہ میں انقلاب آرہا ہے۔ آنے والے وقت میں اس کے اثرات سامنے آئیں گے ۔ یہ فلاحی ریاست کی جانب عملی قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ کووڈ۔ 19کی وبا کے دوران بین الاقوامی برادری نے پاکستان کے اقدامات کو سراہا ۔ ہم نے صحت کے شعبے پرتوجہ دی ہے۔صحت انصاف کارڈ بڑی سہولت ہے۔ اس کے ذریعے شہری کینسر ،ہارٹ، سی سیکشن، ڈائیلاسز، جلنے اور حادثے کی صورت میں بھی علاج کراسکیں گے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس صحت کارڈ کے ذریعے صحت کی مزید سہولیات بھی میسر آئیں گی، فی الحال صرف انڈور ٹریٹمنٹ کی سہولت حاصل ہوگی۔

قبل ازیں وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب اور معاون خصوصی برائے قومی صحت کے ہمراہ منتخب شہریوں میں علامتی ہیلتھ کارڈ بھی تقسیم کئے ۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link