پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے ، خطے میں قیام امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا پر امن حل ضروری ہے،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا اسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ سے خطاب

71

اسلام آباد۔: پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے اور خطے میں قیام امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ضروری ہے، اس کے حل کے بغیرجنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا، وقت آگیا ہے کہ ماضی کو دفن کرکے مستقبل کی جانب بڑھیں، ہمارے ہمسائے کو مسئلہ کشمیر حل کرنا ہوگا کیونکہ مستحکم پاک و ہند تعلقات مشرقی اورمغربی ایشیاء کو قریب لاسکتے ہیں۔ وہ جمعرات کو اسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ سے خطاب کر رہے تھے ۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ نیشنل سکیورٹی ڈائیلاگ وقت کی اہم ضرورت ہے، آج دنیا کو مختلف طرز کی دہشتگردی کا سامنا ہے اور موجودہ حالات میں پاکستان کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہمہ جہت حکمت عملی اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں سکیورٹی خطرات کے باوجود دفاع کے اوپر کم خرچ کررہا ہے، سکیورٹی پر اخراجات بڑھانے سے انسانی ترقی کی قربانی دینا پڑتی ہے جبکہ جارح پڑوسی کے باجود پاکستان خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں اور پاکستان اکسانے کے باوجود ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج نے اہم کردار ادا کیا، دہشتگردی کے خلاف جنگ ہمارے عزم کی عکاس ہے، افغانستان میں امن خطے میں امن کی ضمانت ہے اور افغانستان میں امن کے قیام کے لیے پاکستان اہم کردار ادا کررہا ہے، پاک افغان بارڈر پر مارکیٹوں کا قیام عمل میں لایا گیا جبکہ امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدہ پاکستان کی کوششوں سے ہوا۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل سکیورٹی کو یقینی بنانا صرف افواج کا کام نہیں، نیشنل سکیورٹی کثیر الجہتی ہوتی ہے اس میں قوم کا اہم کردار ہوتا ہے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ایک طویل جدوجہد کے بعد منزل کے قریب ہیں، دہشتگردی اور انتہا پسندی پر قابو پانے کے لیے کم ترقی یافتہ علاقوں کو ترقی دی جارہی ہے۔ْ انہوں نے کہا کہ دنیا نے ورلڈ وار اور کولڈ وار کے اثرات دیکھے، گزشتہ برسوں کے ناکام تجربات کے حوالے سے بات کرناغیر منطقی ہے، ہم نے ماضی سے سیکھا ہے اور آگے بڑھنے کیلئے تیار ہیں، غیر حل شدہ تنازعات غربت میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں، جنوبی ایشیاء میں دنیا کی ایک تہائی آبادی ہے۔انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں کشمیرکا مسئلہ کشمیریوں کی امنگوں کیمطابق حل ہو’ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ماضی کو دفن کر کے آگے بڑھنے کا وقت ہے، بامعنی مذکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی ذمے داری اب بھارت پر عائد ہوتی ہے، ہمارے پڑوسی ملک کو خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں سازگار ماحول بنانا ہو گا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجود نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں غیرحل شدہ مسائل کی وجہ سے پورا خطہ ترقی پذیر اور غربت کا شکار ہو گیا ہے، یہ جان کر دکھ ہوتا ہے کہ جنوبی ایشیا تجارت، انفرااسٹرکچر، پانی اور توانائی میں تعاون کے لحاظ سے دنیا کے سب سے کم مربوط خطوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ قومی سلامتی کے معاصر تصور کا مقصد صرف کسی ملک کو اندرونی و بیرونی خطرات سے ہی محفوظ کرنا نہیں بلکہ ایسا موزوں ماحول بھی فراہم کرنا ہے جس میں انسانی سکیورٹی، قومی پیشرفت اور خوشحالی کا احساس کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ آج کوئی بھی قوم اکیلے سکیورٹی مسائل کو حل نہیں کر سکتی کیونکہ آج دنیا کو بھی جن سکیورٹی مسائل یا الجھنوں کا سامنا ہے ان کا عالمی اور علاقائی حرکیات سے گہرا تعلق ہے چاہے وہ انسانی سیکیورٹی ہو، انتہا پسندی، انسانی حقوق، ماحولیاتی نقصانات، معاشی تحفظ ہو یا وبا، اب اکیلے ان مسائل سے نمٹنا حل نہیں رہا۔انہوں نے کہا کہ آج بھی ہمارے پاس انتخاب کے یکساں مواقع ہیں، اب ہم پر منحصر ہے کہ ہم ماضی کی کشمکش اور زہریلے تنازعات کو فروغ دے کر جنگ، بیماری اور تباہی کی طرف مائل ہوتے ہیں یا آگے بڑھتے ہوئے اپنے لوگوں کو تکنیکی اور سائنسی ترقی کے ثمرات سے بہرہ مند کر کے خوشحالی اور ترقی کے نئے دور کی شروعات کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی پر قابو پانے کیلئے کم ترقی یافتہ علاقوں کوترقی دی جارہی ہے، پاکستان خطے میں ایک ذمہ دارملک ہے، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے طویل جدوجہد کے بعد منزل کے قریب ہیں، پاکستان کی جیوپولیٹیکل حیثیت معاشی ترقی کاباعث بن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور دنیا کے بہترین دماغوں کی موجودگی میں اس تقریب کا حصہ بننا میرے لیے اعزاز کی بات ہے ‘ مجھے امید ہے کہ جو دانشور اور اسکالر یہاں موجود ہیں اور ورچوئل شرکت کررہے ہیں وہ ناصرف پاکستان کی سیکیورٹی کے ویز ن پر بحث کریں گے بلکہ یہ آئیڈیا بھی مرتب کریں گے کہ ہم پاکستان کے مستقبل کے چیلنجز سے کیسے نمٹ سکتے ہیں۔پاکستان میں سیکیورٹی ڈائیلاگ کے انعقاد کی ضرورت کو محسوس کرنے پر نیشنل سیکیورٹی ڈویزن کو سراہنا چاہتا ہوں اور مجھے امید ہے دانشورانہ سوچ اور پالیسی سازی کے انضمام اس رجحان کو جاری رکھا جائے گا۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link