ٹکٹ چیکر کون تھا؟ ایک دل گداز واقعہ

202

ایک بڑھیا بے چاری بڑی مشکل سے ہانپتی کانپتی ٹرین کے ڈبّے میں سوار ہوگئی۔ چھوٹی سی گٹھری اس کے ساتھ تھی۔ اسے لے کر بمشکل وہ ایک طرف کو تھوڑی سی جگہ بنا کر بیٹھ گئی۔

یہ دو آدمیوں کا چھوٹا سا فرسٹ کلاس کا ڈبّہ تھا لیکن اس کے اندر بیس آدمی ٹھسے ہوئے تھے۔ کوئی کھڑا تھا، کوئی بیٹھا تھا، جو جگہ لوگوں سے بچ گئی تھی، اس میں سامان رکھا ہوا تھا۔ حالات کچھ ایسے تھے کہ کوئی کسی سے پوچھ نہ سکتا تھاکہ بھیّا تم کس درجہ کے مسافر ہو؟ یہ فرسٹ کلاس کا ڈبّہ ہے اور پہلے سے دو آدمیوں کے لیے ریزرو ہے۔

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ملک تقسیم ہوا تھا، پاکستان وجود میں آیا ہی تھا، اللہ اور رسول ﷺ کے نام پر۔ اس لیے یہی مسلمانوں کا وطن تھا۔ ہندوستان سے مسلمان سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جان بچائے کسی نہ کسی طرح پاکستان پہنچ رہے تھے۔

یہ بے چاری بڑھیا بھی اپنا سب کچھ لٹا کر نہ جانے کس طرح بچتی بچاتی پاکستان پہنچ گئی تھی۔ اسے اتنا ہوش ہی کہاں تھا کہ یہ تمیز کر سکتی کہ وہ کس درجہ میں آکر بیٹھ گئی۔ اُسے تو بس ایک بات معلوم تھی کہ یہ ہمارا ملک ہے، یہ ہماری گاڑی ہے۔ جو دوسرے مسافر تھے ان کا بھی یہی حال تھا۔

گاڑی کو پاکستان کی سرحد میں داخل ہوئے کچھ بہت زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ایک اسٹیشن پر ٹکٹ چیکر ڈبّے میں داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں ایک کاپی تھی، مشتاق احمد صاحب اپنی آپ بیتی کا روانِ حیات میں لکھتے ہیں۔

“ٹکٹ چیکر کو دیکھ کر معاً مجھے خیال آیا کہ مدتوں میں ریلوے کا افسر رہا ہوں۔ دیکھو! یہ چیکر کیا کرتا ہے۔

چیکر نے بڑھیا کو دیکھا تو اس سے ٹکٹ کا مطالبہ کیا۔ وہ اللہ کی بندی کسی قابل ہوتی تو کچھ کہتی۔ بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ پڑے۔ اس کے پاس ٹکٹ نہ تھا۔ کسی درجہ کا بھی ٹکٹ نہ تھا۔

ملک کے حالات، بڑھیا کی کیفیت، غم و اندوہ کی فضا ایسی تھی کہ عام معمولات کی پابندی بہت مشکل تھی۔ مشتاق صاحب لکھتے ہیں۔ میں نے بڑی حیرت سے دیکھا کہ چیکر نے اپنی نوٹ بک نکالی اور بلا ٹکٹ سفر پر بڑھیا کا چالان کر دیا۔ اس نے رسید کاٹ دی تو بڑھیا اُس سے بے اختیار بولی۔ بیٹا! میرے پاس کچھ نہیں تُو یہ رسید نہ کاٹ۔

جواب ملا، امّاں اگر ہم بلا ٹکٹ سفر کریں تو ہمارے نئے ملک کا کام کیسے چلے گا؟ تمھارا چالان ہوگا، پیسے داخل ہوں گے۔ تم بہت دکھیاری ہو۔ تمھارے لیے میرا دل بھی دکھی ہے۔ یہ جرمانہ تم نہیں دوگی، میں اپنی طرف سے دے دوں گا۔

احساسِ فرض، ملک کی محبّت اور بے سہاروں کی خدمت کا یہ ایسا انمول واقعہ تھا کہ سب مسافروں کے دلوں پر نقش ہوگیا۔ آج کوئی نہیں جانتا کہ یہ فرض شناس اور ملک دوست ٹکٹ چیکر کون تھا؟ لیکن دل بے اختیار کہتا ہے کہ وہ بہت بڑا آدمی تھا۔

(شاہ بلیغ الدّین کی کتاب “روشنی ” سے ایک دل گداز پارہ)

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link