ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں مالی کرپشن کا ذکر نہیں، ساتویں مردم شماری اس سال دسمبر تک مکمل ہو جائے گی، اگلا الیکشن نئی حلقہ بندیوں پر ہوگا، وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین کی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ

140

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں مالی کرپشن کا کوئی ذکر نہیں، پاکستان میں رول آف لاء پر کام کرنے کی ضرورت ہے، ساتویں مردم شماری اس سال دسمبر تک مکمل ہو جائے گی، مردم شماری کے لئے 5 ارب روپے کی منظوری دی گئی ہے، اگلا الیکشن نئی حلقہ بندیوں پر ہوگا، اسحاق ڈار نے جعلی طریقے سے روپے کی قدر کو مستحکم رکھا، آج روپیہ اسٹیٹ بینک کی بہتر پالیسیوں اور اپنی اصل قدر پر مستحکم ہے، ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر میں کوئی کمی نہیں، اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات میں 11.3 فیصد اضافہ ہوا، اب تک 15.8 بلین ڈالر کی غیر ملکی ترسیلات پاکستان آئیں، ساڑھے تین ہزار ارب روپے اوورسیز پاکستانیز بھجوا چکے ہیں، کابینہ نے کریمنل لا ترامیم کی منظوری دی ہے جس کے تحت ہر فوجداری کیس کا فیصلہ 9 ماہ میں کرنا لازمی ہوگا، 9 ماہ میں فیصلہ نہ کرنے پر مجسٹریٹ یا جج التوا کی وجہ سے آگاہ کرے گا، پولیس کو ضمانت کا اختیار دیا جا رہا ہے، کریمنل مقدمات میں پلی بارگین کو شامل کر رہے ہیں، ایس ایچ او کی تعلیمی قابلیت کم از کم بی اے لازمی ہو گی، پراسیکیوشن کے دائرہ اختیار کو بھی بڑھایا جا رہا ہے۔

وفاقی کابینہ کو اومی کرون کی موجودہ لہر کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، اومی کرون کے کیسز میں کئی گنا اضافہ ہوا تاہم ہاسپٹلائزیشن ریٹ کم ہے، ہمارے ہیلتھ سسٹم پر کوئی دبائو نہیں، وباء کے دوران تمام کاروبار کھلے رکھے جائیں گے، تمام سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے کابینہ کو ملک میں اومی کرون کے پھیلاؤ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

موجودہ کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے تاہم ہاسپٹلائزیشن کی شرح کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا سے بچائو کے لئے ویکسی نیشن ضروری ہے، جن لوگوں نے ویکسی نیشن کروائی ہے، وہ نئی لہر سے متاثر نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ایسے اقدامات اٹھانے سے گریز کرے گی جس سے کاروباری اور معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ موجودہ وباء کے دوران کاروبار بند نہیں کئے جائیں گے جبکہ تمام سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کورونا کے حوالے سے جو حکمت عملی اختیار کی وہ کامیاب رہی، دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک سمارٹ لاک ڈائون کی طرف آ رہے ہیں، برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے بھی سمارٹ لاک ڈائون کی حکمت عملی اختیار کی۔

انہوں نے کہا کہ جب کورونا وباء عروج پر تھی تو وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں مزدوروں کا سوچنا ہوگا، انہیں نہ بھولیں، عالمی جریدے اکانومسٹ نے بھی ہماری سمارٹ لاک ڈائون حکمت عملی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا سے نمٹنے کے حوالے سے کامیابیوں کا سہرا وزیراعظم عمران خان کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے کورونا کی موجودہ لہر کو بھی شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے بیرون ملک جانے والے پاکستانی مزدوروں کی سہولت کے لئے کورونا ٹیسٹ کی فیس کم کرنے کی تجویز اقتصادی رابطہ کمیٹی میں پیش کرنے کی منظوری دی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ ساتویں مردم شماری کے لئے پانچ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، مردم شماری اس سال دسمبر میں مکمل ہوگی اس کے بعد جنوری میں الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیاں کر سکے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگلا الیکشن نئی حلقہ بندیوں پر ہوگا۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ کابینہ نے کریمنل لاء ترمیم کی منظوری دی ہے جس کے تحت ہر فوجداری کیس کا فیصلہ 9 ماہ میں کرنا لازمی ہوگا، 9 ماہ میں فیصلہ نہ کرنے پر مجسٹریٹ یا جج تاخیر کی وجہ سے آگاہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر متعلقہ جج مناسب وجوہات بیان نہ کر سکا تو کارروائی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کو ضمانت کا اختیار بھی دیا جا رہا ہے، کریمنل مقدمات میں پلی بارگین کو بھی شامل کیا جا رہا ہے تاکہ مالی مقدمات کا بوجھ عدلیہ پر کم ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایس ایچ او کی تعلیمی قابلیت کم از کم بی اے لازمی ہوگی، پراسیکیوشن کے دائرہ اختیار کو بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ خودمختار پراسیکیوشن سروس قائم کی جا رہی ہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر بھی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں پاکستان کا سکور مالی کرپشن کی وجہ سے نہیں بلکہ رول آف لاء کی وجہ سے گرا، ہمیں ملک میں رول آف لاء پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی مکمل رپورٹ ابھی شائع نہیں ہوئی، اس میں فنانشل کرپشن کا ذکر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں اور این جی اوز کی رپورٹس کی بنیاد پر یہ رپورٹ بنائی گئی ہے، تمام اداروں نے پاکستان کی رینکنگ کو برقرار رکھا، صرف اکانومسٹ انٹیلی جنس کنٹری یونٹ نے درجہ بندی گرائی ہے، چیک کرلیں اس کا پاکستان میں سربراہ کون ہے، تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ کیوں گرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیر کے لئے الگ قانون اور غریب کے لئے الگ قانون ہے، اسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رول آف لاء اور اسٹیٹ کیپچر جیسے معاملات میں ہمہ وقت تمام اداروں کو کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کریمنل جسٹس ریفارمز سے رول آف لا میں بہتری آئے گی، ہائی پروفائل اور اہم مقدمات کی سماعت براہ راست دکھائی جانی چاہئے تاکہ لوگوں کو پتہ چل سکے کہ وہ کیس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کا اومنی کیس، شہباز شریف کا کیس، عثمان مرزا، نور مقدم کیس کا ٹرائل براہ راست نشر کیا جائے، عوامی دلچسپی کے مقدمات کا فوری فیصلہ ہونا چاہئے، قانون کی بالادستی میں عدلیہ کا بہت اہم کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل کی مکمل رپورٹ سامنے آئی تو اس پر ہم مکمل جواب بھی دیں گے۔ اس وقت تک رول آف لاء اور اسٹیٹ کیپچر کا معاملہ ہے، اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی نے کابینہ کو معاشی اشاریوں کے حوالے سے تقابلی جائزہ پیش کیا۔ ہماری برآمدات میں 29 فیصد اضافہ ہوا جس میں سب سے بڑا حصہ ٹیکسٹائل کا ہے جس کی برآمدات میں 88 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی ترسیلات زر میں 11.3 فیصد اضافہ ہوا جو 15.8 ارب ڈالر رہیں۔ 1.4 ارب ڈالر کی کووڈ ویکسین خریدی گئی، آئی ٹی برآمدات میں 48 فیصد، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 17.1 فیصد (24 ارب ڈالر)، اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 31.8 فیصد (17.7 ارب ڈالر)، محصولات کی وصولی کی شرح میں 32.5 فیصد (2920 ارب روپے) اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی اخراجات میں 18.1 فیصد (274 ارب روپے) اضافہ ہوا۔

فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ میں 20 فیصد، نجی کاروباروں کو قرضوں کی فراہمی میں 267 فیصد اضافہ ہوا، نجی کاروباروں کے لئے 904 بلین روپے کے قرضے جاری کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی۔ چاول کی 4.8 فیصد، کپاس 19 فیصد، گنے کی فصل میں 8.7 فیصد اور مکئی کی پیداوار میں ایک فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ گھی کی درآمدی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، جب ہم حکومت میں آئے تو اس وقت پام آئل کی قیمت 500 ڈالر کے قریب تھی جو اب 1200 ڈالر سے زائد ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مشینری کی درآمدات مثبت پیشرفت ہے، اس سے پتہ چل رہا ہے کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری ترقی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں نے ساڑھے تین ہزار ارب روپے پاکستان بھجوائے ہیں۔ ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اسحاق ڈار نے جعلی طریقے سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو مستحکم کرنے کی کوشش کی لیکن ہم نے اس کے برعکس اسٹیٹ بینک کی بہتر پالیسیوں کی بدولت روپے کو اس کی اصل قدر پر مستحکم رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو کاشت کرنے والے کسانوں کے لئے تمباکو کی فصل کی قیمت 245 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلی عدلیہ کے احکامات کے پیش نظر کابینہ نے اسلام آباد میں بجلی اور گیس کے نئے میٹرز کی تنصیب میں درپیش رکاوٹوںکو دور کرنے کے حوالے سے قائم کمیٹی کی سفارشات منظور کیں۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے وفاقی وزارت صحت کی سفارش پر عاصم رئوف کو بطور سی ای او ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے وزارت اسٹیٹ اینڈ فرنٹیئر ریجنز سے متعلقہ رولز آف بزنس میں ترامیم کرنے کی منظوری دی۔ یہ ترامیم سابقہ قبائلی علاقہ جات کے انضمام کے پیش نظر کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے قومی بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی کے مسودے کی منظوری موخر کر دی ہے، پالیسی پر دیگر وزارتوں سے آرا طلب کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے وزارت آبی وسائل کی سفارش پر محمد یوسف کو دیامیر بھاشا ڈیم کمپنی کے چیف ایگزیٹو افسر کا اضافی چارج تین ماہ کے لئے تفویض کرنے کی منظوری دی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 21 اور 24 جنوری 2022ء کو منعقدہ اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی ہے۔

ان فیصلوں میں ساتویں مردم شماری کے لئے پانچ ارب روپے کی منظوری، افغانستان میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر برآمدات کے سیمپلز کوٹے میں اضافہ، منتخب اشیاء کی پاکستان سے افغانستان برآمد پر پاکستانی کرنسی میں ادائیگی کرنے کی منظوری، اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے افغانستان سے چلغوزے کی درآمد پر 45 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کا خاتمہ، کامیاب پاکستان پروگرام کی مانیٹرنگ کے لئے تھرڈ پارٹی سروس کی منظوری، داسو کے مقام پر ہلاک چینی انجینئرزکے لئے11.6ملین ڈالرز معاوضے کی منظوری، فائیو جی لائسنس کے اجراء کے لئے خصوصی ایڈوائزری کمیٹی کا قیام شامل تھا۔

کابینہ نے کمیٹی میں آئی ٹی ماہرین شامل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے کمیٹی برائے قانون کے 19جنوری 2022ء کو منعقدہ اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔ ان فیصلوں میں ٹریڈ آرگنائزیشن ایکٹ 2013ء میں ترمیم، فیڈرل گورنمنٹ پراپرٹیز مینجمنٹ اتھارٹی رولز 2021ئ، نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈز میں بھرتی کے قوانین، پرائس کنٹرول اینڈ پروینشن آف پرافٹیئرنگ اینڈ ہورڈنگ ایکٹ 1977ء میں ترمیم، سینیٹ انتخابات میں کرپٹ پریکٹسز کے خاتمے کے لئے الیکشن (دوسری ترمیم) بل 2021ئ، پاکستان بیورو آف شماریات کی گورننگ کونسل کی تشکیل میں ترمیم، حج و عمرہ (ریگولیشنز) ایکٹ 2021ء مسودہ، اور کریمنل لاء ریفارمز کی منظوری شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے فیصل شیر جان کو بطور ایگزیکٹو ممبر پیمرا تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ کو امور سرکار میں بہتری لانے کے لئے بہترین کارکردگی دکھانے والے وفاقی ڈویژنز کو بونس دینے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ 80 فیصد اہداف حاصل کرنے والے ڈویژنز بونس کے لئے اہل ہوں گے۔ 100 فیصد اہداف حاصل کرنے پر ڈویژن کو چار بونس دیئے جائیں گے، پہلے مرحلے میں بونس سکیم وفاقی وزارتوں کے سول سرونٹس کے لئے ہوگی جس کے بعد ذیلی اداروں اور کنٹریکٹ ملازمین بھی بہترین کارکردگی دکھانے پر بونس کے لئے اہل ہوں گے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ شہزاد اکبر نے بہت محنت اور ہمت سے معاملات کا سامنا کیا، وہ مضبوط آدمی ہیں، ان کے متبادل جو بھی آئے گا ان کے لئے چیلنجز موجود ہوں گے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ چوہدری شجاعت بزرگ سیاستدان ہیں، وہ ہمیشہ بڑی فہم بات کرتے ہین، ہم ان کی رائے کا احترام کرتے ہیں، ان کی بات کو دھیان سے سنتے ہیں، ق لیگ کے دوست بھی ہمارے ایڈوائزر ہیں۔ پی ڈی ایم سربراہ اجلاس کے حوالے سے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ تیر چلے گا نہ تلوار ان سے، یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link