وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس

78

اسلام آباد۔:وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کے اجلاس میں پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ اور کشمیر میں موٹرویز، ڈیمزاور آبپاشی کے وسائل کی بہتری کیلئے متعدد منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔ ایکنک کا اجلاس جمعرات کو یہاں وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اسد عمر، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر، اقتصادی امور ڈویژن کے وفاقی وزیر خسرو بختیار، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ادارہ جاتی اصلاحات و کفایت شعاری ڈاکٹر عشرت حسین کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے نمائندگان اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

ایکنک کے اجلاس میں خیبرپختونخوا ہیومن کیپٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ (ہیلتھ کمپوننٹ) کا منصوبہ پیش کیا گیا، یہ منصوبہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کے محکمہ صحت کے زیر انتظام مکمل کیا جائے گا جس کے 13 ہزار260 ملین روپے کے فنڈ عالمی بینک فراہم کرے گا۔ منصوبہ کی تکمیل سے کے پی کے چار اضلاع میں صحت کی سہولیات اور معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، اس منصوبہ سے صوبہ کی 8.4 ملین آبادی کے علاوہ 5 لاکھ پناہ گزین مستفید ہوں گے۔

منصوبہ پر تفصیلی غور و خوض کے بعد ایکنک نے اس کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ خیبرپختونخوا کی حکومت منصوبہ پر مکمل عملدرآمد اور اس کی تکمیل کے بعد اس کو چلانے کی ذمہ دار ہو گی۔ مزید برآں کے پی کے کی حکومت اس منصوبہ کو طویل مدت کیلئے کارآمد بنانے کے اقدامات بھی کرے گی۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایکنک کے اجلاس میں انڈس ہائی وے ایم۔55 کے شکارپور۔راجن پور سیکشن میں پہلے سے موجود 2 لینز کے ساتھ 2 اضافی لینز کی تعمیر کی سمری کی بھی منظوری دی گئی ہے، یہ منصوبہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی مکمل کرے گی، اس منصوبہ کو وزارت مواصلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک فنڈز فراہم کریں گے، منصوبہ پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 44703.890 ملین روپے ہے جس میں حکومت پاکستان کا حصہ 4470.390 ملین روپے جبکہ اے ڈی بی کا حصہ 40233.50 ملین روپے ہو گا۔ اسی طرح ایکنک میں 69 کلومیٹر طویل (چار لینز) سمبڑیال۔کھاریاں موٹروے کی تعمیر کی سمری بھی پیش کی گئی۔

بہترین سفری سہولیات کا حامل یہ منصوبہ سمبڑیال شہر سے شروع ہو کر لاہور۔سیالکوٹ موٹروے تک جائے گا، یہ موٹروے بی او ٹی کی بنیاد پر 43382.552 ملین روپے کی مجموعی لاگت سے مکمل کیا جائے گا، اس منصوبہ کے فنڈ وزارت مواصلات فراہم کرے گی جبکہ این ایچ اے اس کو مکمل کرے گی۔

اسی طرح ایکنک کے سامنے سوات موٹروے کے دوسرے مرحلہ کیلئے 10 ہزار کنال زمین کی خریداری کی سمری بھی پیش کی گئی۔ اس منصوبہ کیلئے فنڈ خیبرپختونخوا کی حکومت فراہم کرے گی جبکہ یہ منصوبہ خیبرپختونخوا ہائی وے اتھارٹی کی زیر نگرانی وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت مکمل کیا جائے گا۔ 80 کلومیٹر طویل چار رویہ موٹروے کی تعمیر پر 20 ہزار ملین روپے کے اخراجات کا تخمینہ ہے، یہ موٹروے چکدرہ تا فتح پور کے درمیان تعمیر کی جائے گی۔ کمیٹی نے اس منصوبہ کی منظوری دیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ اس طرح کے منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کی بنیاد پر مکمل کئے جائیں۔

کمیٹی نے کہا کہ اس طرح کے منصوبوں کی تکمیل سے ملک میں سفری سہولیات کی بہتری میں مدد ملے گی۔ مزید برآں ایکنک کے اجلاس میں سندھ ریزیلینس پراجیکٹ (ایری گیشن کمپوننٹ) منصوبہ پر غور کیا گیا۔

اس منصوبہ کے تحت سندھ میں خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کی جائے گی جبکہ منصوبہ کے دوسرے مرحلہ میں کراچی کے ضلع ملیر، جامشورو، ٹھٹھہ، شہید بے نظیر آباد، سکھر، خیرپور، قمبر شہداد کوٹ کے اضلاع میں آبی وسائل کی دستیابی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

اس منصوبہ کی تکمیل سندھ کی صوبائی حکومت کے محکمہ آبپاشی کی زیر نگرانی کی جائے گی جبکہ منصوبہ کیلئے دستیاب فنڈز میں سندھ کی صوبائی حکومت کا حصہ 11.50 ملین ڈالر (7.5 فیصد) اور عالمی بینک کا 141.51 ملین ڈالر (92.5 فیصد) حصہ ہو گا۔ منصوبہ پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 153.01 ملین ڈالر (24493.841 ملین روپے) ہے۔ اسی طرح ایکنک نے بلوچستان میں انٹیگریٹڈ واٹر ریسورسز مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ (بی آئی ڈبلیو آر ایم ڈی پی) منصوبہ کی بھی منظوری دی۔ یہ منصوبہ بلوچستان کی حکومت کے محکمہ آبپاشی کی زیر نگرانی مکمل کیا جائے گا۔

منصوبہ کی تکمیل سے صوبہ میں زرعی پیداوار کے فروغ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ زراعت پر منحصر صنعتوں کی ترقی میں مدد ملے گی۔ اس منصوبہ کا دائرہ کار بلوچستان کے 11 اضلاع پر مشتمل ہو گا۔ مجوزہ منصوبہ کیلئے 96 فیصد فنڈ عالمی بینک فراہم کرے گا جبکہ بلوچستان حکومت اور کاشتکاروں کی جانب سے 4 فیصد فنڈز فراہم کئے جائیں گے، منصوبہ پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 14747.74 ملین روپے ہے جو 6 سال کے عرصہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ایکنک نے بلوچستان میں باسول ڈیم منصوبہ کی بھی منظوری دی۔

دریائے باسول پر تعمیر ہونے والا یہ منصوبہ حکومت پاکستان کی آبی وسائل کی وزارت کی زیر نگرانی مکمل کیا جائے گا جس پر اخراجات کا مجموعی تخمینہ 18679.89 ملین روپے ہے۔ اجلاس میں نئی گج ڈیم منصوبہ کی بھی منظوری دی گئی، یہ منصوبہ سندھ کے ضلع دادو میں 46980.35 ملین روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا جو واپڈا اور محکمہ آبپاشی سندھ کی مشترکہ نگرانی میں مکمل کیا جائے گا۔ اس منصوبہ کی تعمیر کا اہم مقصد سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنا ہے، منصوبہ کی تکمیل سے 0.30 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کے علاوہ 4.2 میگاواٹ بجلی کی پیداوار حاصل ہو گی۔

مزید برآں منصوبہ کی تکمیل سے 56739 ایکڑ رقبہ کو سیراب کرنے کے ساتھ ساتھ سیم و تھور کے مسائل پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی۔ کمیٹی میں اسی طرح کشمیر کے ضلع نیلم میں 48 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے جاگراں ہائیڈرو پاور سٹیشن کے فیز ٹو کے قیام کی بھی منظوری دی گئی جس پر نظرثانی شدہ اخراجات کا تخمینہ 11372.135 ملین روپے ہے۔ یہ منصوبہ وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان سپانسر کرے گی جبکہ آزاد کشمیر کی پاور ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی زیر نگرانی یہ منصوبہ مکمل کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ یہ منصوبہ دریائے جاگراں پر تعمیر کیا جا رہا ہے جس سے سالانہ 212.43 گیگا واٹ فی گھنٹہ بجلی پیدا کی جائے گی۔ پریس ریلیز کے مطابق ایکنک کے اجلاس میں سندھ ریزیلینس پراجیکٹ (پی ڈی ایم اے کمپوننٹ) منصوبہ کی بھی منظوری دی گئی جس کے نظرثانی شدہ اخراجات کا تخمینہ 15309.14 ملین روپے ہے، اس منصوبہ کی نگرانی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سندھ کرے گی۔ منصوبہ کی تکمیل سے سندھ میں قدرتی آفات کے مسائل کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ صحت کی بنیادی سہولیات کی بہتری میں مدد ملے گی۔

اس منصوبہ کا دائرہ کار سندھ کے 29 اضلاع پر مشتمل ہو گا جو 25۔2024 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ایکنک نے گوادر۔لسبیلہ لائیولی ہڈ سپورٹ پراجیکٹ فیز ٹو (جی ایل ایل ایس پی۔II) کی بھی منظوری دی جس کے تحت گوادر اور لسبیلہ کے اضلاع کی 45 یونین کونسلوں کی آبادی کی بنیادی سہولیات کی بہتری کے ساتھ ساتھ ماہی گیری کے شعبہ میں ویلیو چین کی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔ اس منصوبہ پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 12328.549 ملین روپے ہے۔

اسی طرح ایکنک نے ٹڈی دل پر قابو پانے اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے منصوبہ کی بھی منظوری دی جس کا دائرہ کار ملک کے چاروں صوبوں کے مختلف اضلاع پر مشتمل ہو گا، منصوبہ پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 31630.60 ملین روپے ہے جس کیلئے 200 ملین ڈالر کے مساوی فنڈ عالمی بینک فراہم کرے گا۔ اس منصوبہ کی تکمیل سے ملک میں پلانٹ پروٹیکشن کے محکمہ کی ترقی اور صوبائی محکموں کی استعداد کار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، یہ منصوبہ تین سال کے اندر مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ایکنک نے گریٹر کراچی واٹر سپلائی سکیم(کے۔ IV) 260 ملین گیلن یومیہ (فیز ون) کی بھی منظوری دی تاکہ کراچی کی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے 650 ملین گیلن یومیہ اضافی پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور واپڈا کی زیر نگرانی یہ منصوبہ 25551.77 ملین روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا جس کیلئے 50، 50 فیصد فنڈ وفاقی اور سندھ کی صوبائی حکومت فراہم کرے گی۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link