وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے برطانوی پارلیمنٹ کے ہاوس آف کامنز کی خارجہ امور اوردفاعی کمیٹیوں کے سربراہان کی ملاقات

51

لندن۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے برطانوی پارلیمنٹ کے ہاوس آف کامنز کی خارجہ امور اوردفاعی کمیٹیوں کے سربراہان نے پیر کو لندن میں ملاقات کی۔وفد کی سربراہی ہاوس آف کامنز سلیکٹ کمیٹی برائے خارجہ امور کے سربراہ ٹام ٹگن ڈاٹ اور ڈیفنس کمیٹی کے سربراہ ٹوبیاس ایلووڈ کر رہے تھے۔

وزیر خارجہ نے برطانوی پارلیمنٹیرینز کو افغانستان کی ابھرتی ہوئی صورتحال کے بارے میں پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا اور کہا کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان اور برطانیہ کی سوچ میں ہم آہنگی ہے،دونوں ممالک افغانستان میں قیام امن چاہتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانستان کو تنہا نہ چھوڑا جائے اور عالمی برادری کو افغانوں کو انسانی بحران سے بچانے کیلئے آگے بڑھنا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں عدم استحکام سے افغان مہاجرین کی یلغار سمیت کئی مسائل سر اٹھائیں گے۔

وزیر خارجہ نے برطانوی پارلیمنٹیریرینز کو بھارتی قابض افواج کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری مظالم،بدترین محاصرے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ہم نے بھارتی قابض افواج کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری مظالم پر 131 صفحات پر مشتمل “ڈوزئیر”جاری کیا ہے جس میں بھارتی افسران کے جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں،ہم نے ٹھوس شواہد دنیا کے سامنے رکھ دیے ہیں تاکہ وہ خود ان حقائق کو جانچ سکے۔

دو طرفہ تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ قریبی دوست اور دیرینہ شراکت دار ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاک برطانیہ اسٹریٹیجک شراکت داری کوآگے بڑھایا جائے اور تعلقات کو اگلے درجے تک لے جایا جائے۔

وزیر خارجہ نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید مستحکم اور فعال بنانے اور اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کیلئے برطانیہ میں مقیم 16 لاکھ پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کی خدمات کو بہتر طور پر بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link