وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت پی ایس ڈی پی کے مؤثر استعمال کے حوالے سے اجلاس

107

اسلام آباد۔30 حکومت نے رواں مالی سال 22۔2021 میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کی گئی رقم میں 40 فیصد اضافہ کے بعد ترقیاتی کاموں کی رفتار اور فنڈز کے مؤثر وصحیح استعمال کی نگرانی کیلئے جامع حکمتِ عملی تیار کرلی۔

جمعہ کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت پی ایس ڈی پی کے مؤثر استعمال پر اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزراء اسد عمر، حماد اظہر، مراد سعید، عمر ایوب خان، معاونینِ خصوصی ملک امین اسلم، ڈاکٹر فیصل سلطان اور متعلقہ اعلیٰ افسران نے شرکت کی جبکہ وزیرِ خزانہ شوکت فیاض ترین وڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ترقیاتی کاموں کی رفتار کو تیز کرنے کیلئے فنڈز کے اجراء کے طریقہ کار کو آسان اور منظم کرنے کے ساتھ ساتھ منصوبوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے اس میں لچک پیدا کی گئی ہے، وزارتوں کو منصوبوں کی ضروریات کے مطابق فنڈز جاری کرنے کیلئے مزید با اختیار بنایا گیا ہے۔ اجلاس کو گزشتہ مالی سال میں خرچ کئے گئے فنڈز پر تفصیلی طور پر آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ فنڈز کے استعمال کی شرح مجموعی طور پر 104 فیصد رہی جو کہ یہ واضح کرتی ہے کہ ترقیاتی کاموں پر بھرپور پیشرفت ہوئی۔ اس کے علاوہ بین الوزارت اور شعبوں کے مابین نگرانی کے نتیجہ میں

140 ارب کے فنڈز تیزی سے تکمیل کی طرف بڑھے اور بڑے پیمانے پر ملکی ترقی پر مثبت اثر ڈالنے والے منصوبوں کو منتقل کئے گئے جس سے نہ صرف عوامی ٹیکس کی بچت ہوئی بلکہ فنڈز ضائع ہونے سے بچا لئے گئے۔ علاوہ ازیں اجلاس کو بتایا گیا کہ وزارتِ منصوبہ بندی منصوبوں کی تکمیل کی مسلسل نگرانی کرہی ہے جس کے لئے ایک جامع طرقہ کار وضع کیا گیا ہے جس کی وجہ سے منصوبوں میں بچت اور فنڈز کے صحیح استعمال کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ رواں سال کوشش کی گئی ہے کہ جاری منصوبوں کی جلد سے جلد تکمیل کیلئے فنڈز کی مکمل فراہمی یقینی بنائی جائے، اس ضمن میں جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے 70 فیصد جبکہ نئے منصوبوں کیلئے 30 فیصد فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 351 ترقیاتی منصوبوں کو تکمیل کیلئے مکمل فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے،

وزارتوں میں منصوبوں کی نگرانی کی استعداد کو مستقل بنیادوں پر بڑھایا جا رہا ہے جس سے سارا سال منصوبوں کی متواتر نگرانی ممکن ہو سکے گی۔ اس کے علاوہ فلیگ شپ منصوبوں کی نگرانی کے کام میں تھرڈ پارٹی فرمز کو بھی شامل کیا جائے گا جس سے کام کی رفتار میں تیزی اور شفافیت پیدا ہوگی۔

اس امر میں شامل طریقہ کار کو خودکار بنانے کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ PC-I اور PC-II کو مکمل طور پر کمپیوٹرائز کر دیا گیا ہے اور وزارتِ منصوبہ بندی رواں سال کاغذی فائلیں قبول نہیں کر رہی۔ مزید تمام وزارتوں کے سیکٹریز 31 جولائی تک کیش اور ورک پلین پیش کریں گے اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال سے انکی اور وزارتوں کے اہلکاروں کی کار کردگی متعین کی جائے گی۔

اجلاس کو E-Procurement اور E-Payment کے نظام پر پیشرفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ وزارتِ منصوبہ بندی وزیرِ اعظم کو اس حوالے سے ان اقدامات پر پیشرفت پر سہ ماہی رپورٹ بھی پیش کرنے کو یقینی بنائے گی۔ وزیرِ اعظم نے اس موقع پر کہا کہ حکومت کی ذمہ داریوں میں سے اولین عوام کے ٹیکس کا صحیح استعمال یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نظام میں آٹومیشن لانے کیلئے اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، ای ٹینڈرنگ جیسے اقدامات کرپشن ختم کرنے کیلئے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے علاوہ وزارتوں کے کام کے طریقہ کار کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے اور منصوبوں کی اہمیت کے حساب سے درجہ بندی کرکے وسائل کا استعمال کیا جائے۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link