مٹیاری تا لاہور ٹرانسمیشن منصوبہ سے لائن لاسز کو چار فیصد تک کم کرنے میں مدد ملے گی، سی پیک کے منصو بوں پر کام تیز ، مہنگائی کے عارضی مسائل ختم ہوں گے،وزیراعظم عمران خان کا مٹیاری تا لاہور ٹرانسمیشن لائن منصوبہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب

330

اسلام آباد۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی میں معاون ثابت ہوگا، سی پیک کے پہلے مرحلہ میں توانائی اور مواصلات کے شعبوں پر توجہ دی گئی، اب صنعت کو فروغ دیا جا رہا ہے اور زراعت کے شعبہ میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی جا رہی ہے،

مٹیاری تا لاہور ٹرانسمیشن منصوبہ سے لائن لاسز کو چار فیصد تک کم کرنے میں مدد ملے گی جو پہلے 17 فیصد کے قریب تھے، ایک فیصد لائن لاسز کا مطلب اربوں روپے کا نقصان ہے جو بجلی کے صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے، سی پیک پاکستان کے لیے بڑا اہم منصوبہ ہے، اس پر کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے جمعرات کو یہاں مٹیاری تا لاہور 660 کے وی ٹرانسمیشن لائن منصوبہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ 886 کلومیٹر طویل منصوبہ کی سب سے بڑی خوبی اس کی جدت ہے اور سٹیٹ آف دی آرٹ منصوبہ سے بجلی کی ٹرانسمیشن کے لائن لاسز 4 فیصد کے قریب ہیں جبکہ قبل ازیں ملک میں لائن لاسز کی شرح 17 فیصد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک فیصد لائن لاسز کا مطلب اربوں روپے کا نقصان ہے اور لائن لاسز بڑھنے سے براہ راست عوام متاثر ہوتے ہیں کیونکہ یہ لاسز عوام کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ منصوبہ سے بجلی کی ترسیل کے نقصانات کم ہوں گے اور یہ منصوبہ بہت جلد اپنی قیمت پوری کر لے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سی پیک چین کے صدر کا ایک فلیگ شپ پروگرام ہے جس پر پاکستان میں تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے بعض مسائل درپیش تھے لیکن اب سی پیک منصوبے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک کے تحت پہلے بجلی کی پیداوار، پھر سڑکوں کی تعمیر اور اب بجلی کی ٹرانسمیشن پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لائن لاسز کی وجہ سے بجلی موجود ہونے کے باوجود صارفین تک سپلائی میں مشکل ہے جو باعث تکلیف ہے جس کا سبب ٹرانسمیشن کے مسائل ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ مٹیاری تا لاہور 4 ہزار میگاواٹ بجلی کی ترسیل کا یہ منصوبہ لائن لاسز میں کمی کے حوالے سے معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پاور جنریشن اور سڑکوں کی تعمیر کے بعد اب ٹرانسمیشن کے مرحلہ تک پہنچ چکا ہے جس کے بعد صنعتکاری پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ قومی دولت میں اضافہ سے ملکی قرضے واپس کیے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ صنعت اور زراعت کے شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اپنی آمدنی بڑھا کر ملک کے قرضے کم کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سی پیک منصوبوں کی رفتار اب مزید تیز ہوگی، کورونا وائرس کی وبا سے جو مسائل درپیش تھے جو ہمارے لیے امتحان تھے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے عالمی سطح پر سپلائی چین کا نظام متاثر ہونے کے نتیجہ میں غذائی مصنوعات کی قیمتیں بڑھی ہیں جو عارضی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ویکسین کے ذریعے کورونا وائرس کی وبا پر قابو پایا جا رہا ہے جس سے اس کا خوف بھی کم ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصو بوں پر کام تیز ہوگا اور مہنگائی کے عارضی مسائل بھی ختم ہوں گے۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link