موسمیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کا فطرت کی بحالی و تحفظ کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ،اقوامِ عالم کو موسمیاتی تبدیلیوں کو مات دینے کے لئے تیز رفتار کوششوں کی ضرورت ہے ، ملک امین اسلم کاموسمیاتی تبدیلی کے متعلق سربراہی اجلاس سے خطاب

39

اسلام آباد:وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے دنیا میں گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے مسائل کے پیشِ نظر حقیقی نتائج دکھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بین الااقوامی برادری کو ’’ڈو مور اینڈ ٹاک لیس‘‘ کی پالیسی اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کا فطرت کی بحالی و تحفظ کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں اور نہ ہی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے دنیا میں کوئی ویکسین ایجاد ہو سکتی ہے، اقوامِ عالم کو موسمیاتی تبدیلیوں کو مات دینے کے لئے زیادہ سے زیادہ ، اور تیز رفتار کوششیں کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی نے 22 اپریل کو واشنگٹن میں امریکی حکومت کے عالمی موسمیاتی تبدیلی کے متعلق سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کٹھن حالات میں یہ اجلاس رکھ کر بہترین اقدام اٹھایا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ یہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر عمل پیرا ہونے اور زمین پر حقیقی نتائج دکھانے کا وقت ہے۔یہ امر قابل غور ہے کہ کاربن کے اخراج میں پاکستان کا حصہ محض ایک فیصد ہے مگر اس کا شمار دنیا کے ان 10 ممالک میں ہوتا ہے جو گلوبل وارمنگ سے سب سے زیادہ متاثرہیں۔تاہم اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان جغرافیائی محل و وقوع کے اعتبار سے ایسے مقام پر واقع ہے جو ہر صورت موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہو گا۔

یہی وجہ ہے کہ دن بدن تیزی سے پاکستان کےشمال کی جانب ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں گلیشیئر ز تیزی سے پگھل رہے ہیں، خشک علاقہ جات کے درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، ہیٹ ویوز آرہی ہیں اور گزشتہ برس زمین کی گرم ترین جگہ بھی پاکستان میں ہی ریکارڈ کی گئی ۔جبکہ جنوب میں ہمارا ساحل سطح سمندر میں اضافہ کے باعث متاثر ہو رہا ہے۔ کرونا وائرس کے اس سنگین دور میں ہمیں ان تمام موسمیاتی تبدیلیوں کا بھی سامنا ہے جس سے دنیا کی پانچویں بڑی آبادی(220ملین لوگ)بری طرح متاثرہو رہی ہے

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link