منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی،کسانوں کو کھاد کی فراہمی یقینی بنائی جائے، وزیراعظم عمران خان کی کھاد کی طلب ورسد کےجائزہ

137

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی،کسانوں کو کھاد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

بدھ کو وزیر اعظم نے ملک میں کھاد کی طلب اور رسد کے اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔اس موقع پروزیر اعظم نے کہا کہ کھاد کی ذخیرہ اندوزی ربیع سیزن کے لیے فصل کی پیداوار کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے، اس لیے کسانوں کو کھاد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کسان پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،پی ٹی آئی کی حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی بار کسان دوست پالیسیاں متعارف کرائی ہیں۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ یوریا کی قلت سے متعلق افواہوں کو دور کرنے کے لیے موثر عوامی آگاہی مہم چلائی جائے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران اوسطاً 19,000 میٹرک ٹن یومیہ کھاد کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا اور مزید 1,000 میٹرک ٹن یومیہ کا اضافہ کیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ کابینہ نے چین سے ایک لاکھ میٹرک ٹن یوریا کی درآمد کی منظوری موجودہ بین الاقوامی مارکیٹ ریٹ سے تقریباً نصف قیمت پر دی ہے۔انسداد سمگلنگ اقدامات کے حوالے سے اجلاس کوبتایا گیا کہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں نے یوریا کی 92,845 بوریاں ضبط کی ہیں جو اسمگل کی جا رہی تھیں۔

وزارت صنعت میں ایک فعال مانیٹرنگ سیل کھاد کی صورت حال کی نگرانی کر رہا ہے اور اس نے یوریا کا پتہ لگانے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں مدد کی ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء شوکت فیاض ترین، مخدوم خسرو بختیار اور سید فخر امام، وزیر مملکت فرخ حبیب، ڈاکٹر شہباز گل، فرٹیلائزر مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے ایگزیکٹوز اور سینئر افسران نے شرکت کی۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹریز ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہوئے۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link