معاشی اشاریوں میں بہتری اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان ترقی کے سفر پر گامزن ہے، کرپشن کے خلاف جنگ مشکل اور طویل ہے، ملک سے کرپشن کے خاتمے میں وقت لگے گا، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

30

اسلام آباد۔ :صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے تعمیراتی شعبے اور صنعتوں کو دیئے گئے پیکیجز کے بہترین نتائج سامنے آئے ہیں، معاشی اشاریوں میں بہتری اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان ترقی کے سفر پر گامزن ہے، کرپشن ایک ناسور ہے، کرپشن کے خلاف جنگ مشکل اور طویل ہے، ملک سے کرپشن کے خاتمے میں وقت لگے گا، زیادتی اور بچوں پر تشدد کے واقعات بہت تکلیف دہ ہیں، ان کی روک تھام کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں، صدارت میرے پاس عوام کی ایک امانت ہے جس نے مجھے لوگوں کی خدمت کا موقع دیا اور میں اللہ کو جوابدہ ہوں، وزیراعظم عمران خان نے مجھے جو ذمہ داریاں سونپی ہیں انہیں پورا کرنے کیلئے بہت محنت کرتا ہوں، امریکہ اور یورپ میں بھی گورننس کی بہتری ایشو ہے، حکومت کو گورننس کی بہتری اور مہنگائی کم کرنے کیلئے مزید اقدامات اٹھانا ہوں گے، سابق چیف جسٹس (ر) افتخار محمد چوہدری نے ریکوڈک اور اسٹیل مل پرائیویٹائزیشن کو سبوتاژ کیا جس کی قیمت قوم ادا کر رہی ہے، وزیراعظم عمران خان، ترکی، سعودی عرب اور ملائیشیا کے لیڈرز کو انٹرنیشنل ریلیشنز میں اخلاقیات کی بحالی کیلئے لیڈ کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہفتہ کو نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان کو بھارت کے مذموم عزائم بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کے سامنے اپنے امیج کو بہتر بنانا ہو گا، اقوام متحدہ ہو یا دوسرے ممالک سب اپنے مفادات کیلئے کام کر رہے ہیں اور اخلاقیات سے ہٹ کر دنیا کے فیصلے مالی مفاد کی طرف چلے گئے ہیں، انٹرنیشنل ریلیشنز اور حکومتوں کے درمیان اخلاقیات ناپید ہو چکی ہے تاہم پاکستان اخلاقیات کے حوالے سے لیڈ کردار ادا کر سکتا ہے، اچھا لیڈر قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے، وزیراعظم عمران خان، ترکی، سعودی عرب اور ملائیشیا کے لیڈرز کو انٹرنیشنل ریلیشنز میں اخلاقیات کی بحالی کیلئے لیڈ کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے پاپولیشن اور آئی ٹی ٹاسک فورس کی ذمہ داری دی، آن لائن اوورسیز پاکستانیز ووٹنگ اور بائیومیٹرک ووٹنگ مشین پر کام کرتا رہتا ہوں، اس کے علاوہ صحت کے شعبے کی بہتری کے معاملات کا بھی جائزہ لیتا رہتا ہوں۔ صدر مملکت نے کہا کہ میری اہلیہ خواتین میں چھاتی کے کینسر کے حوالے سے آگاہی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ہم خواتین کو وراثتی حقوق دلانے کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے اور اہلخانہ کے ساتھ ساتھ ذاتی مہمانوں کے اخراجات خود اٹھاتا ہوں، ماضی کے برعکس کیمپ آفس یا ذاتی گھر کے اخراجات بھی ایوان صدر ادا نہیں کرتا، میرے پروٹوکول کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ایوان صدر ایک خوبصورت جگہ ہے جسے عوام کیلئے کھولا گیا تھا، جو وزارتیں اور ادارے یہاں پر تقریب کا انعقاد کرنا چاہتی ہیں انہیں خوش آمدیدہ کہتے ہیں، پی ٹی وی نے جب مشاعرے کا انعقاد کیا تو لوگوں نے اعتراض کیا کہ ایوان صدر نے 20 سے 25 لاکھ روپے خرچ کئے ہیں لیکن ایوان صدر نے مشاعرے میں ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ملک کے حالات بہتر نہیں ہوتے کفایت شعاری کرنی ہو گی،ایوان صدر جیسی جگہیں قوم کی طاقت کے اعتبار سے دوسرے ممالک سے آنے والے لوگوں کیلئے عکاسی کرتی ہیں، قومیں جیسے جیسے ترقی کرتی ہیں تو اپنے وقار کے اعتبار سے ایسی جگہوں کو مرعوب کن بناتی ہیں تاکہ دوسروں پر رعب پڑے۔ صدر مملکت نے کہا کہ جنسی زیادتی والے ایشوز بہت گھناونےے اور تکلیف دہ ہیں، زیادتی اور بچوں پر تشدد کی واقعات کی روک تھام کیلئے انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، اس حوالے سے ماں باپ کو آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے، اچھا ہے کہ اب ایسے ایشوز کو سوشل میڈیا اور ٹی وی پر اٹھایا جا رہا ہے، وزارت قانون کو ہدایت کی ہے کہ ایسے کیسز کیلئے عدالتیں بنانے کے حوالے سے تفصیلات دیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ترقیاتی فنڈز ہر سال دیئے جاتے ہیں، یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین پر زیادہ تر کیسز پرانے ہیں، بی آر ٹی سمیت جو نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں ان کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے، نیب کا قانون کہتا ہے کہ گزشتہ 40 سال کا حساب ہو گا، وزیراعظم عمران خان سے کہا کہ کرپشن کے خلاف کئی کئی صدیوں تک جنگ چلتی ہے، پاکستان میں کرپشن کے خاتمے میں وقت لگے گا، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل رپورٹ سے متعلق غلط بیانات دیئے گئے، رپورٹ میں کہا گیا کہ نمبرز بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک کی بہ نسبت پاکستان بہتر طریقے سے کورونا بحران سے نکلا ہے اور دنیا نے پاکستانی حکومت کے اقدامات کو سراہا ہے، بحران پر قابو پانے میں علمائے کرام اور میڈیا نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ کاروباری شخصیات نے حکومت کی پالیسیوں کو بہت سراہا ہے، حکومت کے پیکیجز کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، برآمدات میں اضافہ، کرنٹ ا کاونٹ خسارہ میں کمی، ڈالر میں استحکام، ریکارڈ توڑ ترسیلات زر، اسٹاک مارکیٹ می تیزی اور آئی ٹی سیکٹر میں بہتری اس کی بہترین مثال ہیں، حکومت چاہتی ہے کہ طویل المدتی پالیسی ہو، کچھ انڈسٹریوں کو گیس سے متعلق نقصان ہوا کیونکہ ان کے پاس بجلی کا کنکشن ہی نہیں تھا۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link