ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے اس وقت دنیا کو جن موسمیاتی تبدیلیوں اور دیگر چیلنجز کا سامنا ہے ان پر قابو پانے کے لیے اجتماعی اور انفرادی سطح پر کوششیں کرنا ضروری ہیں۔ ~ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری

101

اسلام آباد: آج ماحولیاتی آلودگی کا دن پوری دنیا میں منایا جا رہا ہے پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ عالمی یومِ ماحولیات کی میزبانی کر رہا ہے، سابقہ حکومتوں نے ماحولیاتی آلودگی کو روکنے پر کوئی توجہ نہیں دی اور ہر دور میں جنگلات کو بیدردی سے کاٹا گیا، انھوں نے کہا کہ کرہ ارض پر زندگی کی بقاء کے لیے آلودگی سے پاک ماحول بہت ضروری ہے ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے اس وقت دنیا کو جن موسمیاتی تبدیلیوں اور دیگر چیلنجز کا سامنا ہے ان پر قابو پانے کے لیے اجتماعی اور انفرادی سطح پر کوششیں کرنا ضروری ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے عالمی یومِ ماحولیات کی مناسبت سے گرین گروتھ پاکستان کے زیرِ اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار کے دیگر مہمانوں میں وزیرِ اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے خوراک جمشید اقبال چیمہ اور سینیٹر فوزیہ ارشد شامل تھے۔

تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی طرف سے پاکستان کو سال 2021 کے لیے عالمی یومِ ماحولیات کا میزبان قرار دینا ہمارے لیے باعثِ اعزاز ہے اور وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت کی ملک کو ماحولیاتی آلودگی سے صاف بنانے کی جد وجہد کا اعتراف ہے۔ جب وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں صوبہ خیبرپختونخواہ میں بلین ٹری سونامی کا پراجیکٹ شروع کیا گیا تو لوگ ہنستے تھے اور سوال کرتے تھے کہ یہ کیا کرنے جا رہے ہیں اس سے روزگار ملنے کا کیا تعلق ہے اور ایک ارب درخت لگانا ناممکن ہے، لیکن وزیراعظم عمران خان اور پاکستان تحریکِ انصاف نے عوام اور خصوصاً نوجوان نسل کو ماحولیاتی تبدیلیوں اور اس پراجیکٹ کے حوالے سے آگاہی دی اور انہیں بتایا کہ ان کا لگایا ہوا ایک پودہ بھی ہماری آنے والی نسلوں کے لیے کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کو پوری دنیا میں سراہا گیا اور دنیا نے ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کی پاکستان کی کاوشوں کو تسلیم کیا۔ قاسم خان سوری نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں وزیر اعظم عمران خان نے دس اب درخت لگانے کا وژن دیا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ان دس ارب درختوں کے لگ جانے سے ملک میں ماحول انتہائی صاف اور خوشگوار ہو جائے گا اور ماحولیاتی آلودگی میں واضح کمی آ جائے گی۔

قاسم خان سوری کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ ڈھائی سالوں میں جن منصوبوں کا آغاز کیا ان کے نتائج و ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، حکومت کی بہتر اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے عالمی وبا کورونا وائرس کے باوجود معیشت کا پہیہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے جی ڈی پی 4 فیصد سے زیادہ کو چھونے کا رہی ہے زرمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ٹیکسٹائل سیکٹر ملکی تاریخ میں بین الاقوامی سطح پر ریکارڈ ایکسپورٹ کر رہا ہے کنسٹرکشن انڈسٹری اپنے عروج پر ہے۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا موجودہ دور حکومت میں پہلی مرتبہ بلوچستان میں 3300 کلومیٹر طویل سٹرکیں بنائی جا رہی ہیں بلوچستان کے 9 اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے وزیراعظم عمران خان نے 650 ارب روپے کا پیکج دیا ہے جبکہ کوئٹہ شہر میں ٹریفک کے بدترین نظام سے نپٹنے کے لیے آج ہی وفاقی حکومت نے کئی فلائی اوورز بنانے کے لیے 3 ارب روپے مختص کیے ہیں، کوئٹہ شہر میں دھائیوں پرانی گیس پائپ لائن تبدیلی کا منصوبہ اپنے اختتام کے قریب ہے۔

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان کا غریب طبقہ جو اچھے نجی ہسپتالوں میں اپنا علاج نہیں کروا سکتا تھا ان کو صحت انصاف کارڈ دیا گیا اب وہ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال جیسے بڑے نجی ہسپتالوں میں 10 لاکھ روپے تک علاج کروا سکتے ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ عوام مخالفین کی جانب سے پھیلائے جانے والے منفی پراپیگنڈے پر توجہ نہ دیں اور حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کریں ملک ترقی کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے اور پاکستان میں آنے والی نسلوں کو ایک بہتر صاف ماحول فراہم کرنے کے لیے عوام سے وزیراعظم عمران خان کے 10 ہزار ارب درخت لگانے کے پروگرام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی۔

تقریب کے اختتام پر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے ہوائی آلودگی، زمینی آلودگی اور آبی آلودگی سے آگہی کے لئے خصوصی لیکچرز کے انعقاد پر چیئرمین گرین گروتھ پاکستان ساجد اقبال اور پی ٹی آئی ویلفیئر ونگ کے صدر حبیب ملک اورکزئی کی کاوش کو سراہا، پورے ملک میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے ورکشاپس اور آگاہی سیمنارز کی ضرورت پر زور دیا۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link