قوم سے فریش مینڈیٹ حاصل کرنے کے لئے ہمیں جلد از جلد نئے عام انتخابات کی طرف جانا ہوگا ، خواجہ محمد آصف کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

101

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ قوم سے فریش مینڈیٹ حاصل کرنے کے لئے ہمیں نئے عام انتخابات کی طرف جلد از جلد جانا ہوگا جس کا فیصلہ اتحادی حکومت کے قائدین کو مل کر کرنا چاہیے، پارلیمنٹ، عدلیہ، افواج، بیوروکریسی اور میڈیا سب کو مل کر ملک کو مشکل صورتحال سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، ہمیں باہر سے کوئی خطرہ نہیں ہمیں اندر سے خطرہ ہے، بلوچستان کے لوگ الیکشن کے ذریعے ایسے نمائندوں کو آگے لائیں جو ان کے مسائل حل کر سکیں، ہمیں ناراض بلوچوں کو سینے سے لگانا ہوگا اور ان کی ناراضگی کی وجوہات جاننا ہوں گی۔

خواجہ محمد آصف نے صدارتی خطاب پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی چار سالہ حکومت کا دارو مدار جھوٹ پر تھا۔ غیر ملکی تحائف بیچنے والا خود کو صادق اور امین کہتا ہے۔ اسرائیل اور بھارت سے انہیں فارن فنڈنگ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ساری سیاسی قیادت کو چاہیے کہ اس صورتحال کا ادراک کرے ۔

سینئر صحافی حامد میر کے گھر پر پی ٹی آئی والوں نے حملہ کیا ۔ اگر سچ بولنے والوں کی آواز بند کی گئی تو یہ ملک کے لئے نقصان دہ ہوگا ۔ کپتان پچ پر لیٹ گیا ہے ۔ عمران خان نے جلسوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کرنے اعلان کیا ہے یہ ان کا حق ہے ۔ اتحادی حکومت کے قائدین کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ ہمیں جلد از جلد انتخابات کی طرف جانا چاہیے۔ ملک کو سول وار کی طرف دھکیلا جارہا ہے ۔ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے لوگ دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں جبکہ کہا جارہا ہے یہ امپورٹڈ حکومت ہے۔

صدارتی خطاب پر بحث سمیٹی جائے تاکہ یہ ایوان نارمل بزنس کی طرف آسکے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال اور بلوچستان کے معاملات تیس چالیس سالوں سے ہمارے سامنے ہیں ۔ ہمیں بلوچستان کے مسائل اور وہاں چلنے والی تحاریک کی وجوہات تلاش کرنا ہوں گی ۔ اس رستے ہوئے ناسور کا علاج یہ ایوان تلاش کرکے ان کے زخموں پر مرہم رکھے ۔ بلوچستان اسمبلی طویل عرصہ سے اپنا کردار ادا نہیں کر رہی ۔ وہ ہمارے اپنے لوگ ہیں ہمیں انہیں سینے سے لگانا چاہیئے ہمیں ان کے گلے شکوے اور محرومیاں دور کرنا ہوں گی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ان تمام مسائل کے حل کے لئے ہمیں اس ایوان کو استعمال کرنا چاہیے ۔ پسماندہ علاقوں کی پسماندگی دور کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جو حالات چل رہے ہیں ان سے جمہوریت کا نقصان ہوگا ۔ لوگوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کی آواز اسمبلیوں تک پہنچتی ہے۔

حامد میر والے واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی کیا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ نیا مینڈیٹ ہے۔ پارلیمنٹ ، عدلیہ ، افواج، بیوروکریسی اور میڈیا سب کو مل کر اس صورتحال سے نکالنا چاہیے ۔ ہمیں باہر سے کوئی خطرہ نہیں ہے ہمیں اندر سے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تشدد کی ترغیب نہیں دینا چاہتے ہم آئین اور قانون کا احترام چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرویز الہی کے گھر گئے تھے مگر انہوں نے ہماری درخواست نہیں سنی، اب بغیر آکسیجن کے ماسک لگا کر اور پٹیاں باندھ کر مذاق بن گئے ہیں۔ ہم کسی کو انتقام کا نشانہ نہیں بنانا چاہتے۔ بلوچستان کے لوگ الیکشن کے ذریعے ایسے نمائندوں کو آگے لائیں جو ان کے مسائل حل کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ایف سی اور دفاعی ادارے اپنی اپنی بیرکوں میں واپس جائیں تو ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ کہ یہاں آئندہ کوئی غیر آئینی کام نہیں کریں گے ۔ ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ عمران خان اس ملک کو دیوالیہ کر گیا ہے۔ سری لنکا کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ ہم بھی معاشی لحاظ سے اس صورتحال سے زیادہ دور نہیں ہیں۔ ایوان نے صدارتی خطاب پر اظہار تشکر کی تحریک نمٹا دی ۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link