قومی اسمبلی کے اراکین کی نومنتخب سپیکرراجہ پرویز اشرف کومبارکباد

180

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اراکین نے نومنتخب سپیکرراجہ پرویز اشرف کومبارکباددیتے ہوئے اس امید کااظہارکیاہے کہ پارلیمانی روایات اورجمہوری اقدار کوفروغ دیا جائیگا، ارکان قومی اسمبلی نے ملک کودرپیش اقتصادی اورسیاسی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے آئین اورجموری طریقہ کارکے مطابق اقدامات کی ضرورت پربھی زوردیا ہے دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے منحرف اراکین اسمبلی نے سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کوفروغ دینے اورخوشامد کے کلچرکوختم کرنے کیلئے اقدامات کی سفارش کی ہے، بجٹ اجلاس سے پہلے پری بجٹ سیشن بلا کر پارلیمنٹرینز سے تجاویز لی جائیں۔

ہفتہ کوقومی اسمبلی میں سپیکرکے انتخاب کے بعد بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے نومنتخب سپیکر راجہ پرویز اشرف کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم موجود نہیں ہیں مگر آج انہیں ہم مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ برداشت کے بغیر سیاست اور جمہوریت نہیں رہتی، برداشت کے بغیر پارلیمان بھی نہیں چل سکتا، ہمارے سامنے بچوں کی لاشیں آئیں ہمارے گھروں کو آگ لگائی گئی مگر ہم نے کسی کوگالیاں نہیں دیں لیکن آج جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کی مائیں بددعائیں دیتی ہیں لیکن گالیاں نہیں دیتیں۔ انہوں نے کہا کہ جس انداز میں اس ایوان کو چلایا گیا ہے وہ افسوسناک تھا۔ خط کو ورلڈ کپ کی گیند بنا دیا گیا، صرف ایک بات ہوتی تھی کہ بین الاقوامی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت اپنے اعمالوں سے گئی ہے مگر نام بین الاقوامی سازش کا دیا۔ 8 اگست 2018ء کو شاہ محمود نے ہمارے ساتھ معاہدہ کیا، ستمبر 2018ء میں دوسرا معاہدہ ہوا۔ جب ضرورت اورمطلب ہوتی تھی تو شاہ محمود کوئٹہ آتے تھے جب ضرورت پوری ہوئی تو ایوان میں آنکھیں چراتے ، ہم اقتدار کے نہیں اقدار والے لوگ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگست 2006ء میں نواب اکبر بگٹی کو قتل کیا گیا، قومی اسمبلی میں ہمارا ایک اور صوبائی اسمبلی میں دو ارکان تھے، ہم نے 15 دنوں کے اندر استعفیٰ دیا۔ اگر پی ٹی آئی کے دوستوں کو استعفی کا طریقہ نہیں آتا تو ہم انہیں سکھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات کو سیاسی اور جمہوری انداز میں حل کرنے کا حق صرف جمہوری لوگوں کو ہے۔ سیاسی معاملات میں اداروں کا عمل دخل نہیں ہونا چاہیے۔ عید پر لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کیا جائے۔ حفیظ بلوچ کو خضدار سے اٹھایا گیا ہے، ڈیڑھ ماہ سے احتجاج ہو رہا ہے۔

وزیراعظم سے گزارش ہے کہ انہیں فی الفور رہا کیا جائے ، تمام لاپتہ افراد کو جلد بازیاب کرایا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ آصف نے نومنتخب سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کو مبارکباد پیش کی اورکہا کہ راجہ پرویز اشرف وزیراعظم بھی رہے ہیں ، انہوں نے عزت اور وقار کے ساتھ وقت گزارا، اللہ ان کے حامی و ناصر ہو۔انہوں نے کہاکہ سپیکرکی کی نظر میں سب لوگ برابر ہونے چاہئیں۔ اگر اس ہائوس میں قاعدے اور قانون کا احترام ہو تو آہستہ آہستہ پورے حکومتی ڈھانچے اور اداروں میں آئین سربلند ہوگا۔

راجہ ریاض نے کہا کہ وہ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے سپیکر راجہ پرویز اشرف کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ امید ہے کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ امتیاز نہیں برتیں گے۔ گزشتہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر نے جو کردار ادا کیا ہے انہوں نے آئین توڑا ہے۔ آئین توڑنے والوں کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس حوالے سے قانون کو حرکت میں آنا چاہیے، آج اگرقانون اورآئین شکنی پرکسی کو معاف کیا تو کل کئی واقعات دیکھنے کو ملیں گے۔ میں عمران خان کو کہنا چاہتا ہوں کہ ان کی کوتاہیوں، لاپرواہیوں اور نالائقیوں کی وجہ سے آئین بھی ٹوٹ رہا ہے اور آئین کو سربازار نیلام کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کی ترجمان کے لئے ہم یہاں موجود ہیں۔ عمران خان نے حکومت کو بچانے کیلئے بزدار کی قربانی دے دی۔ انہوں نے کہا کہ خط شاہ محمود قریشی کی سازش ہے، یہ سازش صرف اور صرف لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے ہے۔ رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا ہے کہ جس طریقے سے آئین اور پارلیمان کی روایات کو روندا گیا اس کا احتساب ہونا چاہیے۔ گزشتہ دور میں جتنا بے توقیر سپیکر کی کرسی اور اس ایوان کو کیا گیا اس سے پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔

شمالی وزیرستان میں پھنسے آئی ڈی پیز کو واپس لانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم ایک بہت بڑی کامیابی تھی، چھوٹے صوبوں کی صوبائی خودمختاری کے لئے 18ویں ترمیم پر من و عن عمل کیا جائے۔ گزشتہ حکومت نے جس طرح آزادی اظہاررائے اور پارلیمانی روایات کو روندا اس کی مثال نہیں ملتی، صحافیوں کو یرغمال بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جو مقدمات گزشتہ حکومتوںمیں بنے واپس لئے جائیں، سیاسی رہنمائوں کو رہا کیا جائے۔

محسن داوڑ نے کہا کہ تحریک انصاف کے دوستوں نے اقتدار میں بوٹ پالش کے ریکارڈ توڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ آئندہ پالیسی اور فیصلے اس پارلیمان میں ہوں گے۔ میر منور تالپور نے نومنتخب سپیکر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو کئی مسائل کا سامنا ہے جسے مل کر حل کرنا ہے، تمام صوبوں کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں۔ مولانا عبدالاکبر چترالی نے نومنتخب سپیکر کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ کوئی نیا اور پرانا پاکستان نہیں ہے، پاکستان ایک ہے جس کی بنیاد بابائے قوم نے کلمہ کی بنیاد پر رکھی تھی۔ پاکستان دو نظریہ کی بنیاد پر بنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 75 سالوں میں سے 35 سال آمروں نے حکومت کی، انہی ادوار میں آمروں کے پیدا کردہ سیاستدانوں نے بعد میں حکومتیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں ہے کہ قرآن و سنت سپریم قانون ہوگا اور سودی نظام ختم ہوگا۔ 75 سال گزرنے کے بعد بھی قرآن کو سپریم قانون نہیں بنایا جاسکا اور نہ ہی سودی نظام کا خاتمہ ہوا۔شاہ زین بگٹی نے سپیکر کو مبارکباد دی اور پنجاب اسمبلی واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں آئینی عمل کو روکا گیا ہے اس پر سپیکر کی رولنگ آنی چاہیے۔

مسلم لیگ (ن) کے رکن قیصر احمد شیخ نے کہا کہ وہ سپیکر کو مبارکباد دیتے ہیں۔ انہوں نے علاقہ کے مسائل کو حل کرنے کے لئے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ عمران خان حکومت نے مہنگائی تو کردی لیکن عوام کو ریلیف فرام کرنے کے لئے اقدامات پیش کئے جس سے ملک میں بحران آیا۔ جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی علی وزیر نے راجہ پرویز اشرف کو سپیکر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے توقع کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی اس حکومت میں اپنے ابتدائی منشور پر عمل کرکے غریب، محنت کش اور مظلوم طبقے کی حالت بہتر بنائے گی۔ ہم نے بغیر کسی لالچ اور مطالبات کے حکومت کا ساتھ دیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی معاملات کو بہتر کیا جائے، ہم اس پارلیمان میں بغیر کسی عہدے کی لالچ کے اپنی قوم کی خدمت کے لئے آئے ہیں۔ ہم پر غداری کے مقدمات بنا کر قید تنہائی میں رکھا گیا ہم پھر بھی برداشت کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نواب یوسف تالپور نے راجہ پرویز اشرف کو قومی اسمبلی کا سپیکر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بلوچوں کے مسائل حل کرنے کی طرف توجہ مرکوز ہیں۔ بلوچوں کے ساتھ گفت و شنید کرکے بہتر طریقے سے مسئال حل کریں۔

پاکستان میں پاکستانی کی تقسیم غیر آئینی طریقے سے ہو رہی ہے۔ پانی کی تقسیم سمیت تمام امور آئین کے تحت حل ہونے چاہئیں۔ ہمارا ملک زرعی ملک ہے، زراعت کو مراعات دینا ہوں گی۔ پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ایک جمہوری کارکن آج سپیکر کی باوقار کرسی پر براجمان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے۔ ایک سازش کے تحت ملک کی زراعت کو تباہ کیا گیا۔ تبدیلی کے نام پر ملک کو اتنا نقصان پہنچایا گیا ہے جس کا مداوا ناممکن نہیں مگر مشکل ضرور ہے۔

مسلم لیگ ن کے ڈاکٹر نثار چیمہ نے سپیکر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج کا دن پورے ایوان کے لئے یادگار ہے۔ پارلیمان کی توقیر کا تعلق ارکان کے پارلیمانی طرز عمل اور اقدار سے ہے۔ جو کچھ ہم نے ساڑھے تین سالوں میں اس ایوان میں دیکھا اور آج جو کچھ پنجاب اسمبلی میں ہوا وہ افسوسناک ہے۔ رکن اسمبلی شمیم آرا پنہور نے کہا کہ سیاسی قیادت نے جمہوریت کی بحالی کے لئے اہم کردار ادا کیا۔ میں سابق ڈپٹی سپیکر کے غیر قانونی اقدامات کی مذمت کرتی ہوں۔

انہوں نے سندھ میں 18گھنٹے لوڈشیڈنگ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ رکن قومی اسمبلی رمیش کمار وینکوانی نے وزیراعظم شہباز شریف اور سپیکر کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ ایک جمہوری عمل تھا ہمارا تعلق اپوزیشن سے ہے۔ جمہوریت کو مضبوط کرنے میں اپوزیشن کا ایک کردار ہوتا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے جس طرح ایک عمل کا بائیکاٹ کیا وہ درست نہیں تھا۔ سفارتی اور معاشی طور پر ملک کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اور صرف اس سے ملک کو آگے لے جایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دسمبر میں انہوں نے وزیراعظم سے کہا تھا کہ ہمارا ملک پیچھے جارہا ہے میں نے وزیراعظم کو خط بھی لکھا تھا اگر کسی سیاسی جماعت میں تنقید برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں تو وہ سیاسی جماعت کا دعویٰ کیسے کر سکتی ہے۔سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کوفروغ دینے اورخوشامد کے کلچرکوختم کرنے کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف کے منحرف رکن رانا قاسم نون نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ڈیموکریٹک پارلیمنٹری گروپ کی طرف سے سپیکر کو بلامقابلہ منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ گزشتہ دور میں جتنی اس پارلیمان کی بے توقیری ہوئی اس کی مثال نہیں ملتی۔

پارلیمان جمہور کی آواز کا ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر پر بہیمانہ تشدد کرکے ایوان کی بے توقیری کی گئی ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ اس واقعہ کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ امید کرتے ہیں اپوزیشن والوں سے برابر کا سلوک کیا جائے گا۔ ڈاکٹر محمد افضل ڈھانڈلہ نے راجہ پرویز اشرف کو بلامقابلہ سپیکر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف ارکان کا رویہ کسی طور پر مناسب نہیں تھا ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی ناز بلوچ نے نومنتخب سپیکر کو بلامقابلہ منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی۔ اور کہا کہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے کہ ایک ہی دور میں ہم اپوزیشن اور حکومتی بنچوں میں بیٹھے ہیں۔ رکن قومی اسمبلی چوہدری محمد اشرف نے سپیکر پرویز اشرف کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے پنجاب کے ڈپٹی سپیکر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکومت نے گالم گلوچ کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

تحریک انصاف کے منحرف رکن احمد حسین دیہڑ نے سپیکر پرویز اشرف کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کا وہ ورکر سپیکر منتخب ہوا ہے جو عوام کا درد رکھتا ہے۔ کچھ لوگ پیسے کے لئے سیاست کرتے ہیں اور کچھ لوگ غریبوں کے لئے جیتے ہیں، میں ان کے لئے اپنی جان دینے کو تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی پارٹی کا سربراہ قائد ایوان بن کر ڈکٹیٹر بن جائے تو اس کا ایم این اے اور کیا کرے۔ اپوزیشن کو گالیاں دینے پر اتنے ہی بڑے عہدے اور وزارتیں ملتی تھیں۔ ہمیں اختلاف رائے کا حق نہیں دیا گیا۔ اگر عمران خان اپوزیشن ارکان کو اپنی پارٹی میں شامل کرلیں تو وکٹ گر گئی اور اگر ہم اختلاف کریں تو ہمیں باغی کہا جائے یہ کہاں کا انصاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی ایک روپے کی کرپشن نہیں کی، اگر ثابت ہو جائے تو استعفی دے دوں گا۔ میرا پارٹی کے ساتھ اختلاف دو سال قبل جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ نہ بنانے پر شروع ہوا۔ جنوبی پنجاب میں کرپشن کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ میں نے منسٹرز کے نام لئے تو مجھے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔ جن کی وجہ سے کرپشن ہو رہی تھی ان سے آج تک نہیں پوچھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا کام تنقید کرنا ہوتا ہے، اگر حکومت تنقید شروع کردے تو غریب عوام کی کون سنے گا۔ بجٹ موجودہ حکومت کا امتحان ہوگا۔ بجٹ اجلاس سے پہلے پری بجٹ سیشن بلا کر پارلیمنٹرین سے تجاویز لی جائیں۔ پیپلز پارٹی کی رکن شگفتہ جمانی نے کہا کہ ساڑھے تین سال کے گھٹن کا ماحول ختم ہوا ہے۔ ہمیں بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ ہمیں نیا یا پرانا نہیں بلکہ صرف پاکستان چاہیے۔ ساڑھے تین سالوں کی سیاست میں لوگوں کی پگڑیاں اچھالی گئیں۔ گالیوں اور دشنام طرازی کو سیاست کا نام دیا گیا۔

آج عمران خان عوام اور اداروں کو جان بوجھ کر لڑانے کی سازش کر رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے قادر خان مندوخیل نے سپیکر کو مبارکباد دی اور کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر ازخود نوٹس لیا اور اس رولنگ کو غیر قانون قرار دیا۔ سابق وزیراعظم، سابق سپیکر اور سابق ڈپٹی سپیکر نے آئین سے غداری کی کوشش کی ہے۔ عمران خان بیرونی سازش سے پاکستان پر مسلط کئے گئے تھے عدم اعتماد کی تحریک آئین کے مطابق تھی۔ رکن قومی اسمبلی اظہر قیوم نہرا نے بھی سپیکر کو بلامقابلہ منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر پر تشدد کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link