قومی اسمبلی نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو قائد ایوان منتخب کرلیا، 174وو ٹ لے کر ملک کے 23 ویں وزیر اعظم منتخب ، شاہ محمود قریشی کاالیکشن کا بائیکاٹ

180

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے صدراور متحدہ اپوزیشن کے متفقہ امیدار محمد شہباز شریف کو نیاقائد ایوان منتخب کر لیاگیا۔وہ174وو ٹ لے کر ملک کے 23 ویں وزیر اعظم منتخب ہوئے ۔

انہیں پاکستان تحریک انصاف کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار شاہ محمود قریشی کی طرف سے الیکشن کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد قائد ایوان منتخب کیا گیا۔ پیر کو قومی اسمبلی کے نئے قائد ایوان کے انتخاب کے موقع پر اجلاس کی صدارت کے فرائض پینل آف چیئرپرسن کے رکن سردار ایاز صادق نے سرانجام دیئے۔

انہوں نے کہا کہ ایوان میں قائد ایوان کا انتخاب آئین کے آرٹیکل 91 اور متعلقہ قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے تحت عمل میں آئے گا۔ انہوں نے ارکان کو قائد ایوان کے انتخاب کے حوالے سے مروجہ طریقہ کار اپنایا اور کہا کہ یہ انتخاب اوپن ڈویژن کی بنیاد پر ہوتا ہے اس کے بعد قومی اسمبلی کے 23 ویں قائد ایوان کے انتخاب کا عمل شروع ہوا۔ یکے بعد دیگرے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، جے یو آئی (ف)، جمہوری وطن پارٹی، مسلم لیگ (ق) کے بعض ارکان، بلوچستان نیشنل پارٹی، بلوچستانی عوامی پارٹی کے ارکان نے شہباز شریف کے حق میں اپنا ووٹ رجسٹرڈ کرایا۔

انتخابی عمل مکمل ہونے پر پینل آف چیئرپرسن کے رکن سردار ایاز صادق نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ متحدہ اپوزیشن کی طرف سے قومی اسمبلی کے قائد ایوان کے لئے امیدوار محمد شہباز شریف نے 174 ووٹ حاصل کئے ہیں۔

واضح رہے قومی اسمبلی کے 23ویں نومنتخب قائد ایوان محمد شہباز شریف مسلم لیگ (ن) کے صدر ہیں اور تین مرتبہ وزیراعظم پاکستان رہنے والے میاں نوازشریف کے چھوٹے بھائی ہیں۔ میاں شہباز شریف 23 ستمبر 1951ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کی ۔ عملی سیاست میں ان کا کیرئیر چار دہائیوں پر مشتمل ہے۔

ان کا عوامی خدمت کا کیریئر 1985 ء میں بطور صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے شروع ہوا۔ شہباز شریف پہلی مرتبہ 1988میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1990-93کے دوران قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ، 1993 میں پنجاب اسمبلی کے رکن بنے اور 1996 ء تک اپوزیشن لیڈر رہے ۔1997 میں تیسری مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن بنے اور وزیر اعلی منتخب ہوئے۔

انہوں نے 12 اکتوبر 1999ء کو مسلم لیگ (ن) کی ختم ہونے والی حکومت کے بعد انہیں قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلنا پڑیں اور اس کے بعد جلا وطن کردیئے گئے۔ میاں محمد شہباز شریف نے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کیلئے اہم کردار ادا کیا۔

2008 ء میں چوتھی مرتبہ بلا مقابلہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 8 جون 2008 ء سے 26 مارچ 2013 ء تک دوسری مرتبہ وزیر اعلی پنجاب خدمات سرانجام دیں۔ مئی 2013 کے عام انتخابات میں ان کی پارٹی مسلم لیگ (ن) بھاری مینڈیٹ کے ساتھ دوبارہ برسراقتدار آئی ۔ آپ صوبائی اسمبلی کی تین نشستوں پی پی ۔159، پی پی ۔161، پی پی 247) ( اور قومی اسمبلی کی این اے 129 کی ایک نشست پر کامیاب قرارپائے ۔

تاہم انہوں نے پی پی 159 کی نشست برقرار رکھی اور وہ تیسری مرتبہ وزیر اعلی پنجاب منتخب ہوئے ۔ شہباز شریف 2018 ء میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ۔ انہوں نے عمران خان کے مقابلہ میں وزیراعظم کا انتخاب بھی لڑا ، عمران خان 176 ووٹ لے کر وزیراعظم منتخب ہوگئے تھے جبکہ اس وقت شہباز شریف کو96 ووٹ پڑے۔

جس کے بعد شہبازشریف قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف نامزد ہوئے ۔ شہبازشریف ایک متحرک سیاسی لیڈر ہیں جو اپنی مضبوط اور بہترین انتظامی صلاحیتوں کی بدولت پہچانے جاتے ہیں۔ انہیں متحدہ اپوزیشن کی جانب سے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا گیا۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link