سی پیک سے پاکستان وسطی، جنوبی ایشیا اور مغرب کے درمیان اہم اقتصادی مرکز بن سکتا ہے،ایشیائی ترقیاتی بینک

213

اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ممکنہ فوائد سے استفادہ کرنے ، برآمدات میں اضافہ اور حکومت کی مالیاتی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے بعض پالیسی اقدامات کی تجاویز دی ہیں۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے اقتصادی راہداری کی ترقی سے متعلق کیس اسٹڈی گزشتہ روز جاری کی ہے جس میں سی پیک کے تحت ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچہ کو زیادہ سے زیادہ اور موثر طریقے سے استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے، بینک کاکہنا ہے کہ خشکی میں گھرے وسطی ایشیائی ریاستوں اورکاریک میں شریک ممالک کو تزویراتی طور پر واقع گوادر بندرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں تک موثر رسائی فراہم کی جاسکتی ہے۔

اس کے علاوہ اقتصادی راہداری اورگوادرکی بندرگاہ سے پاکستان کو اپنے اسٹریٹجک محل وقوع سے زیادہ سے زیادہ فوائد سمیٹنے اور وسطی، مغربی اور جنوبی ایشیا میں اقتصادی مرکز بنانے میں بھی مددمل سکتی ہے ۔ اسی تناظر میں کاریک ممالک کے ساتھ خاص طور پر تجارت سے متعلقہ مسائل، کسٹم کے طریقہ کار، ای کامرس، اور ملککیت دانش کے حقوق سے امورپرروابط مضبوط کیے جاسکتے ہیں۔

اس سے پاکستان برآمدات سے اپنی آمدنی کو بڑھانے کے لیے باہمی فائدہ مند اقتصادی شراکت داری کو فروغ دیتے ہوئے ٹول اور ٹیکس محصولات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہاہے کہ ای سی ڈی کا بنیادی مقصد اعلیٰ، زیادہ پائیدار، اور جامع ترقی کے عمل کو فروغ دینے کے لیے معیشتوں کی مسابقت اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانا ہے۔

اقتصادی راہداری کی ترقی کے ساتھ ملکی اور برآمدی منڈیوں دونوں میں مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کو راغب کر کے ایک مضبوط صنعتی اور متنوع علاقائی بنیاد میسرآجائیگی جس کے نتیجے میں ملازمتوں کی تخلیق کے ذریعے غربت کے خاتمہ میں مددملےگی۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز کی ترقی کو تیز کرنے پر بھی زور دیاہے اورکہاہے کہ خصوصی اقتصادی زونزکو عالمی طورپرمروجہ بہترین طریقوں اور مقامی معلومات کی بنیاد پر تیار کیا جانا چاہیے تاکہ چین کی برآمدات پر مبنی پرانی صنعتوں کو راغب کیا جاسکے۔ اس سٹڈی میں کہاگیا ہے کہ کاروباری مشترکہ منصوبوں اور خصوصی اقتصادی زونزکی ترقی کے ذریعے صنعتی تعاون کے فریم ورک معاہدے پر پاکستان اور چین کے درمیان حالیہ مشاورت خوش آئند ہے اور اس سے پاکستان میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے نجی شعبے کی ترقی کے امکانات کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی تجویز بھی دی ہے اورکہاہے کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات سے پاکستان میں نجی شعبہ کی مسابقت، پیداواری صلاحیت اور عالمی منڈی تک رسائی میں اضافہ کیا جاسکتاہے جس سے تجارتی خسارے کو کم کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے میں مددملیگی ۔

بینک نے اس ضمن میں کاروباری ضوابط کو معقول بنانے ، ٹیکس کے نظام میں بہتری ، تجارتی سہولیات کی فراہمی ، ، رسد کو بہتر بنانے ، انسانی سرمائے کی ترقی، لیبر مارکیٹ کی کارکردگی میں اضافہ ، کیپٹل مارکیٹ کووسعت دینے اورمالی شمولیت کو مضبوط کرنے کیلئے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی تجاویز دی ہیں ۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے ملک کے ٹیکس ریونیو کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے پر بھی زور دیا۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے تخمینے سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کی ٹیکس کی گنجائش جی ڈی پی کا تقریباً 22.3 فیصد ہے، جو مالی سال 2019 میں جی ڈی پی کے 10 فیصد سے زیادہ ٹیکس ریونیو کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

بینک نے کہاہے کہ ٹیکس کی بنیادمیں وسعت کیلئے حکومت کے حالیہ اقدامات درست سمت میں اٹھائے گئے ہیں تاہم ٹیکس نیٹ میں وسعت کیلئے سخت اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کر کے ٹیکس میں رعایتوں اور چھوٹ کو کم کرنا، ٹیکس انتظامیہ میں ساختی کمزوریوں کاخاتمہ اور معیشت میں ٹیکس کی تعمیل کو بہتربنانے سمیت اور بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق 2014 میں حکومت پاکستان نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کا آغاز کیا۔ 2030 تک سرمایہ کاری تقریباً 62 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

اگرچین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو پاکستان اپنے سٹریٹجک جیو پولیٹیکل محل وقوع کو بروئے کار لاکر اپنے علاقائی اور بین الاقوامی اقتصادی روابط کو بہتر اور صنعتی ترقی کو بڑھا سکتا ہے۔ اس سے پاکستان وسطی، جنوبی اور مغرب کے لیے اقتصادی مرکز بن سکتا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے سٹڈی میں کہاگیاہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی روابط اور علاقائی انضمام کے لیے سی پیک ایک اقدام ہے اس سے قومی اور علاقائی روابط کو فروغ ملیگا، لوگوں اور سامان کی سرحدوں کے اندر اور اس کے پار تیز رفتار، سستی اور آسان نقل و حرکت یقینی ہوجائیگی ۔

اس منصوبہ سے قومی، علاقائی اور عالمی تجارت کی لاگت میں کمی ہوگی، معاشرے کے معاشی طورپرکمزور طبقات کی اقتصادی مواقع تک رسائی کو بہتر بنایا جاسکے گا اور ضروری بنیادی ڈھانچے کی خدمات تک بہتر رسائی فراہم کرنے کے نتیجے میں غربت میں کمی آئیگی ۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link