سٹیٹ بینک کو کسی کی غلامی میں نہیں دیا گیا، پارلیمنٹ کے تابع رہے گا، قائد حزب اختلاف کا استعفیٰ ایک ڈرامہ ہے، وہ کبھی اپنی سیٹ نہیں چھوڑیں گے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

145

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سٹیٹ بینک کو کسی کی غلامی میں نہیں دیا گیا، یہ ادارہ پارلیمنٹ کے تابع رہے گا، قائد حزب اختلاف کا استعفیٰ ایک ڈرامہ ہے، وہ کبھی اپنی سیٹ نہیں چھوڑیں گے، یہ سمجھوتہ کرنے والے قائد حزب اختلاف ہیں، اپوزیشن ارکان ان پر اعتماد نہ کرے، یہ سینیٹر بھی ووٹ خرید کر بنے ہیں، پیپلزپارٹی نے (ن) لیگ کے ساتھ قائد حزب اختلاف کی تقرری میں بھی ہاتھ کیا، سینیٹر دلاور نے صاف بتا دیا ہے کہ قائد حزب اختلاف انہیں بلا کر خود غائب ہو گئے۔

منگل کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ سٹیٹ بینک کو خود مختار بنانا معاشی ذمہ داریوں کا حصہ ہے، پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کا ریکارڈ گواہ ہے کہ وہ اپنے دور میں ترامیم کرتی رہی ہیں، اب ضرورت اس بات کی تھی کہ سٹیٹ بینک کو خود مختار ادارہ بنایا جائے تاکہ حکومتیں اپنے مقاصد کے لئے اس کو استعمال نہ کر سکیں، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تقرری کا اختیار کابینہ اور وزیراعظم کے پاس ہو گا، اسے مادر پدر آزاد نہیں کیا جا رہا، نہ ہی کسی کی غلامی میں دیا گیا ہے، یہ پارلیمنٹ کے تابع ہے اور رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کی رپورٹ پارلیمنٹ میں اسی طرح پیش کی جاتی رہی ہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف نے پیر کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان دیا، چیئرمین سینیٹ پر نکتہ چینی کی، قواعد اس کی انہیں اجازت نہیں دیتے، انہوں نے چیئرمین پر حکومت کو سہولت دینے کی بات کی، حالانکہ کے رولز کے مطابق چیئرمین نے اپنے حق استعمال کیا، قائد حزب اختلاف نے اپنی غیر حاضری کی وضاحتیں بھی پیش کیں جس سے عوام اور اپوزیشن کے حلقے مطمئن نہیں ہوئے، ان کو پہلے علم تھا کہ قومی اسمبلی میں ان کی جماعت بل کی مخالفت کر چکی ہے اور سینیٹ میں یہ بل آئے گا، آئی ایم ایف کے اجلاس کے بورڈ کے اجلاس کے حوالے سے بھی انہیں پوری معلومات تھیں، سینیٹر دلاور اور آزاد اپوزیشن ارکان کو خود رابطہ کر کے بلایا لیکن خود غیر حاضر ہو گئے، قائد حزب اختلاف ووٹ خرید کر سینیٹر بنے ہیں، یہ سب جانتے ہیں، ان کا کیس آج بھی الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے، ان کے صاحبزادے کی ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں وہ ووٹ خریدنے کی بات کر رہے تھے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے (ن) لیگ کے ساتھ پہلے بھی ہاتھ کیا تھا اور قائد حزب اختلاف کی تعیناتی میں (ن) لیگ کے امیدوار کو ووٹ دینے کا وعدہ کر کے پیچھے ہٹ گئے، (ن) لیگ کے ساتھ پہلے بھی ہاتھ ہوا اور جمعہ کو بھی ایسے ہی کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کے عہدے سے استعفیٰ بھی ایک ڈرامہ ہے، یہ اس سیٹ سے چمٹے رہیں گے اور استعفیٰ واپس لے لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ارکان کو ان کا مشورہ ہے کہ قائد حزب اختلاف سمجھوتہ کرنے والے مالی شخصیت ہیں، ان پر کبھی اعتبار نہ کیا جائے گا۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link