خیبرپختونخوا میں سرمائی تہوار اور فروغ پذیر سیاحتی سرگرمیاں

39

خیبر پختونخوا دس سال سے زائد عرصے تک دہشت گردی کی شدید لہر کے زیر اثر رہا ۔یہ وہ عرصہ تھا جب یہاں کہ لوگ اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید مایوسی اور بے یقینی کا شکار تھے۔ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں ،خودکش حملوں اور دہشت گردی کے دیگر واقعات کی بہتات نے ذہنوں کو نفسیاتی طور پر اس قدر متاثر کر رکھا تھا کہ ہر روزصبح کام کاج اور ملازمتوں کیلئے گھروں سے نکلنے والے شام کو گھر واپسی کی امید تک کھو بیٹھے تھے۔ یہ وہ عرصہ تھا جب کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ خیبر پختونخوا میں زندگی معمول کی جانب لوٹے گی اوریہاں کے لوگ پھر سے سکوں و اطمینان اور مسرت و انبساط کی کیفیات سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔یہ اللہ پاک کا خصوصی فضل و کرم اور پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی عوام کے تعاون سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کا ثمر ہے کہ اہل وطن اور خیبر پختونخوا کے عوام کو نہ صرف دہشت گردوں کے وجود اور انکی پیدا کردہ شدید مایوسانہ کیفیات سے نجات ملی بلکہ ان کی زندگیوں میں رونقیں، رعنائیاں اور سیر و تفریح کے مواقع بھی بتدریج لوٹ رہے ہیں ۔

پاکستان بھر اور بالخصوص خیبر پختونخوا کو قدرت نے جن حسین و دلکش سیاحتی مقامات سے نوازا ہے انکی ایک دنیا معترف ہے ۔ایک طویل عرصے سے یہ ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے کہ ان سیاحتی مقامات کو ملک بھر اور پوری دنیاکے سیر و سیاحت کے دلدادہ افراد کیلئے سیاحتی اور تفریحی نکتہ نگاہ سے ترقی دی جائے ۔اس تناظر میں ان مقامات تک رسائی اور قیام و طعام سمیت دیگر تمام متعلقہ حوالوں سے سہولیات کی فراہمی اور ان سہولیات کو زیادہ سے زیادہ بہتر بناناناگزیر قرار دیا جا تا رہا ہے۔موجودہ حکومت کے تقریبا اڑھائی سالہ دور کے دوران اور اس سے قبل خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے پانچ سالہ دور میں بھی جیسے جیسے ملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے سیاحتی مقامات کی ترقی اور ان مقامات پر سیر و تفریح کے زیادہ سے زیادہ مواقع کی فراہمی پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے ۔انھی حکومتی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ ملک بھر بشمول صوبہ خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقامات پر سال کے مختلف ایام میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور وہ مقامات جن کی طرف سیاح عموما موسم گرما میں ہی زیادہ رخ کرتے تھے اور سردیوں میں سیاحتی سرگرمیاں ماند ماند سے نظر آتی تھیں اب سردیوں میں بھی پر رونق اور آباد دکھائی دیتے ہیں۔

رواں موسم سرما کے دوران بھی خیبر پختونخوا کے مختلف سیاحتی مقامات بشمول کالام ، گلیات ،کاغان ، ناران اور مالم جبہ میں سیاحوں کی آمد نے تعداد کے حساب سے نئی بلندیوں کو چھوا ہے جس کے باعث نہ صرف ان علاقوں کے عام باشندوں اور کاروباری حضرات کے دل مسرت وا طمینان کی کیفیات سے لبریز ہیں بلکہ یہ صورتحال پورے صوبے اور ملک کی اجتماعی اقتصادی، معاشی اور معاشرتی صورتحال پر بھی خوشگوار اثرات مرتب کر رہی ہے

۔رواں موسم سرما میں خیبر پختونخوا کے ان سیاحتی مقامات پر جن کی دلکشی و رعنائی برف باری کے بعدمزید نکھر جاتی ہے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی دل جوئی اور تفریح طبع کیلئے متعدد خصوصی اقدامات اٹھائے گئے جن میں ،”سنو فیسٹولز ” کے نام سے سرمائی کھیلوں کے مقابلوں کو سب سے زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی ۔ ان خصوصی سنو فیسٹولز کا انعقاد خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے کئی تفریحی مقامات کی شان و شوکت بڑھانے کا باعث بنا ہے۔ خیبر پختونخوا میں گلیات اور مالم جبہ کے مقامات پر منعقدہ سنو فیسٹولزنے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ان فیسٹولزمیں شرکت کرنے والے افراد جن ناقابل فراموش احساسات و جذبات اور جن ناقابل بیان خوش کن کیفیات کے زیر اثرگھروں کو واپس لوٹے ہیں وہ ایک طرف انھیں بار بار یہاں کھنچے چلے آنے پر اکسا رہی ہیں تو دوسری طرف انھیں اپنے حلقہ اثر میں اور اس سے آگے بڑھ کر مذکورہ مقامات کی تشہیر پر بھی مجبور کر رہی ہیں۔

جہاں تک مالم جبہ سنو فیسٹول کا تعلق ہے یہ رنگا رنگ میلہ ایک ہفتے سے زائد تک اپنا رنگ جمانے کے بعد اختتام پذیر ہو ا،اس میلے میں موسم سرما کے مختلف کھیلوں کے مقابلے بھی ہوئے جن میں اسکیئنگ، سنو بورڈنگ، آئس ہاکی وغیرہ شامل ہیں جبکہ روایتی اور مقامی پکوانوں اور دستکاری کی نمائشیں اور دیگر سرگرمیاں بھی میلے کا حصہ تھیں ، اس دوران 22تا 24جنوری انٹرنیشنل سنو بورڈنگ ٹورنامنٹ منعقد ہوا ،ایونٹ میں یورپ، بیلجیئم،افغانستان اور پاکستان کے کھلاڑی شریک ہوئے۔محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا کے زیرانتظام خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی اور سیمسن گروپ آف کمپنی کے باہمی اشتراک سے منعقد ہونے والے پاکستان انٹرنیشنل سنوبورڈنگ کپ کے ساتھ ساتھ فوڈ اینڈ میوزک فیسٹیول بھی رکھا گیا تھا جس سے نہ صرف کھلاڑی بلکہ حسین وادی کا رخ کرنے والے ہزاروں سیاح بھی لطف اندوز ہوئے۔اس دوران گلگت بلتستان سے آنے والی یوگا ٹرینر ماہ گل کبیر نے مالم جبہ کے مقام پر خصوصی یوگا ٹریننگ سیشن کا بھی انعقاد کیا جبکہ محافل موسیقی بھی اس دوران اپنا رنگ جماتی رہیں ،

اختتامی تقریب کے موقع پر سینیٹر فیصل جاوید مہمان خصوصی تھے ان کے ہمراہ محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا اور سیمسن گروپ آف کمپنی کے عہدیداران بھی موجود تھے ۔ پاکستان انٹرنیشنل سنو بورڈنگ کپ کے دوران خواتین کے جائنٹ سلام مقابلوں میں پاکستان کی فاطمہ ندیم نے 3 منٹ 42 سیکنڈ کے وقت کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ سارا ندیم نے دونوں رن کے مشترکہ وقت کے مطابق 4 منٹ 07 سیکنڈ کے ساتھ دوسری اور پاکستان ہی کی عائشہ اکمل نے 4 منٹ 51 سیکنڈ کے وقت کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی ۔ ایونٹ میں 8خواتین جن میں تین خواتین کا تعلق افغانستان سے ہے نے بھی حصہ لیا۔ مردوں کے انٹرنیشنل سنو بورڈنگ کے جائنٹ سلام مقابلوں میں بلجیئم کے وکٹر روجر نے 1 منٹ 36 سیکنڈ کے ساتھ پہلی، بلجیئم ہی کے جولین نے 1 منٹ39 سیکنڈ کے دوسری اور بلجیئم ہی کے ہیری نے 1 منٹ41سیکنڈ کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی ۔انہی جائنٹ سلام متوازی مقابلوں میں پاکستان کے رضا اللہ نے گولڈ، افغانستان کے احمد سروش نے سلور جبکہ پاکستان کے وکیل احمد نے برانز میڈل حاصل کیا جبکہ خواتین کے ان متوازی مقابلوں میں سارا ندیم نے گولڈ، فاطمہ ندیم نے سلور اور عائشہ اکمل نے سلور میڈل حاصل کیا۔

انٹرنیشنل سنو بورڈنگ مقابلوں میں مرد و خواتین سمیت یورپ، بیلجیئم،افغانستان اور پاکستان سے 8 خواتین سمیت 44 کھلاڑیوں نے حصہ لیاجنہوں نے سنو فیسٹول اور سنو بورڈنگ ایونٹ کے انعقاد کو بہترین اقدام قرار دیا ۔ ان کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ مالم جبہ میں قیام اور سنو فیسٹیول کے دوران انھوں نے جو لطف حاصل کیا وہ ناقابل فراموش ہے ، انکی خواہش ہو گی کہ وہ بار بار یہاں آئیں اور اس لطف کی یاد تازہ کرتے رہیں ، انھوں نے دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستان اور اس کا صوبہ خیبر پختونخوا اب ایک پر امن علاقہ ہے جہاں دنیا بھر کے سیاحوں کی تفریح طبع کیلئے بہت کچھ موجود ہے لہذا سیاحت اور سیر و تفریح کو دلدادہ افراد کو یہاں کا رخ ضرور کرنا چاہیئے۔
اس حوالے سے خیبر پختونخوا ٹورازم اتھارٹی کے سربراہ جنید خان کا کہنا ہے کہ صوبے کی مشہور سیاحتی وادیوں اور قدیم تہذیبی مقامات کی طرف زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو راغب کرنے کے حوالے سے کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ، انھوں نے کہا کہ مالم جبہ پاکستان میں بہترین ریزارٹ ہے ۔انھوں نے بتا یا کہ یہاں اسکیئنگ مقابلوں کے ساتھ ساتھ، 15 سال سے کم عمر کے بچوں کے لئے الپائن اسکیئنگ اور اسکیٹنگ کے مقابلے، کرلنگ وغیرہ کے مقابلے بھی سنو فیسٹول کا حصہ تھے، انھوں نے کہا کہ یہ فیسٹیول دنیا کو ایک مثبت پیغام بھیجے گا کہ پاکستان اور خیبر پختونخوا میں امن بحال ہو گیا ہے اس طرح مالاکنڈ اور ہزارہ سمیت خیبر پختونخوا کے دیگر حصوں میں سیاحتی سرگرمیاں زور پکڑیں گی، انہوں نے مزید کہا کہ خوبصورت مقامات کی ترقی کے لئے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں، صوبے میں قدرتی مناظر اور شاندار منظرناموں کی بہتات ہے ساتھ ہی ساتھ یہاں معدنیات، زرعی ذخائر اور دیگروسائل بھی بکثرت ہیں جبکہ ، قدرتی میٹھے پانی کے چشمے، جھیلیں، آبشاریں، اونچے برفیلے پہاڑ، سبز چراگاہیں، وادیاں، اور دیگر نظارے اس خطے کا خاصہ ہیں۔انھوں نے کہاکہ ٹورازم اتھارٹی کے اہم کردار نے غیر ملکی اور ملکی و مقامی سیاحوں کو خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقامات کی طرف راغب کرنے میں اہم کامیابی حاصل کی ہے ۔اتھارٹی کی جانب سے وادی سوات، مالم جبہ اسکی ریزارٹ، کالام، گلیات، کمراٹ اور دیگر مقامات پر تسلسل کے ساتھ ایسی سرگرمیوںکا انعقاد کیا جا رہا ہے جو سیاحوں کیلئے پر کشش ہوں اور ان اقدامات کے نتیجے میں ہر سال سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے ۔

گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے منعقد ہونے والے تین روزہ سنو فیسٹیول سے گلیات کی سیاحت کو مزید فروغ حاصل ہوا، 20 ہزار سے زائد سیاحوں کی نتھیاگلی اور ایوبیہ میں آمد سے ہوٹل انڈسٹری اور دیگر مقامی کاروباری حلقوں کو روزگار کے نئے مواقع ملے، وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلی تعلیم کا مران بنگش نے سنوفیسٹول کی افتتاحی تقریب کے بعدمیڈیاکے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے نئے سیاحتی مقامات کو فروغ دیا جا رہا ہے،دوماہ کے دوران 7 لاکھ سے زائدسیاحوں نے گلیات کادورہ کیاہے سرمائی سیاحت کے فروغ سے پوری دنیا میں خیبرپختونخوا کامثبت امیج سامنے آیاہے،سنوفیسٹول کے انعقادسے جہاں سیاحتی شعبے کوفروغ حاصل ہوگاوہیں روزگارکے نئے مواقع بھی پیداہونگے ،صوبائی حکومت سیاحت کوفروغ دینے کے لیے صوبہ بھرمیں نئے سیاحتی مقامات کوترقی دے رہی ہے جس سے صوبے میں سیاحت کومزید ترقی حاصل ہوگی، خیبرپختونخوامیں سیاحت کے اتنے مواقع موجودہیں کہ یہ شعبہ گیم چینجرثابت ہوگا، انہوں نے مزیدکہاکہ سیاحت کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے وژن پرمن وعن عمل ہورہاہے جس سے عام آدمی کوروزگارکے مواقع میسرآئیں گے۔

خیبرپختونخوا کلچراینڈ ٹورازم اتھارٹی، ضلعی انتظامیہ چترال لوئر اور ہندوکش سنو سپورٹس کلب کے باہمی اشتراک سے چترال کی خوبصورت وادی مداقلشت میں بھی ہندوکش سنو سپورٹس فیسٹیول 29 سے 31جنوری تک منعقد ہوا جس میں سکینگ، سنو بورڈنگ، آئس سکیٹنگ، آئس ہاکی، سنو ٹریکنگ، برف کی مجسمہ سازی سمیت باربی کیو نائٹ اور محفل موسیقی کا اہتمام کیا گیا فیسٹیول میں 10غیرملکی کھلاڑیوں و ٹرینرز سمیت 500سے زائد سکینگ کھلاڑیوں نے شرکت کی۔فیسٹیول میں سیاحوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور پاکستان کے دلکش سیاحتی مقامات کو سراہا۔

سیاحتی حلقوں کاکہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں سنوفیسٹولز کے انعقاد سے سرمائی سیاحت کوفروغ مل رہاہے اورہزاروں کی تعدادمیں اندرون اور بیرون ملک سے سیاح ان فیسٹول کاحصہ بن رہے ہیں جس سے شدیدسردی اوربرف باری کے باوجودمقامی افراداورتاجروں کوکاروبارکے مواقع میسر آرہے ہیں اور پاکستان کے دلکش اور دل موہ لینے والے قدرتی مناظر کو دنیا بھر میں متعارف کرواتے ہوئے سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ معیشت کو بھی تقویت حاصل ہو گی۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link