حکومت آئندہ ماہ فوڈ سکیورٹی سے متعلق جامع پلان کا اعلان کرے گی، نجی بینک گھروں کی تعمیر کے لئے 380ارب روپے قرضہ دیں گے ، وزیراعظم عمران خان کی صحافیوں سے گفتگو

143

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ ماہ فوڈ سکیورٹی سے متعلق ایک جامع پلان کا اعلان کرے گی، نجی بینک گھروں کی تعمیر کے لئے 380ارب روپے قرضہ دیں گے ، ماضی کی حکومتوں نے گھروں کی سکیموں کے نام پر کرپشن کی ، ورکرز ویلفیئر فنڈ کرپشن کا مرکز بنا رہا، سمندر پار پاکستانیوں کے مقدمات تیزی سے نمٹانے کے لئے خصوصی عدالتیں بنائی گئی ہیں، قبضہ گروپوں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے، شہروں کا پھیلائو روکنے کے لئے ماسٹر پلان بنائے جارہے ہیں ، سندھ حکومت بنڈل آئی لینڈ منصوبے کے لئے اجازت نہیں دے رہی ،سابق حکومتوں نے آبی ذخائر نہ بنا کر ملک پر ظلم کیا ،ہائوسنگ اور دیگر منصوبوں کے ثمرات جلد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم نے کہاکہ کوئی بھی حکومت تمام لوگوں کے لئے گھر تعمیر نہیں کر سکتی اور حکومت کا کام صرف آسانیاں پیدا کرنا اور سہولت دینا ہے تاکہ لوگ اپنے گھر بنا اور خرید سکیں ۔ انہوں نے کہاکہ پہلی دفعہ گھروں کی تعمیر کے لئے بینکوں کو سہولت فراہم کی گئی ہے اور نجی بینک 380ارب روپے گھروں کی تعمیر کے لئے قرضہ دیں گے، 5مرلہ گھر پر 5فیصد کی شرح سے قرضہ دیا جارہاہے اور اس سے زیادہ قرضے پر حکومت معاونت فراہم کرتی ہے، اس سلسلے میں ایک لاکھ گھروں تک 3 لاکھ روپے فی گھر سبسڈی دی جارہی ہے اور 21لاکھ کا گھر 18لاکھ روپے میں مل سکتا ہے اور اس طرح کرائے کی رقم قسطوں کی ادائیگی کی صورت میں دی جاسکتی ہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ فور کلویئرلاء کا معاملہ حل ہونے میں 2سال کا عرصہ لگ گیا ہے ۔حکومتی اقدامات سے تعمیراتی شعبے کو فروغ حاصل ہو گا ۔انہوں نے کہاکہ ورکرز ویلفیئر فنڈ ماضی میں کرپشن کا مرکز تھا ، یہاں سب کچھ ہوتا تھا لیکن مزدوروں کو کچھ نہیں ملتا تھا ۔ 25سال پرانی سکیم موجودہ حکومت نے بحال کی ہے اور اڑھائی سال میں لوگوں کو گھروں کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے ، اس پر سید ذوالفقار عباس بخاری اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کی پوری ٹیم کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہاکہ سندھ میں بھی مراعات دی جاسکتی ہیں لیکن اٹھارہویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت اس سلسلے میں مداخلت نہیں کر سکتی ، سندھ کو تعمیراتی شعبے میں ہر قسم کی معاونت فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں ، وفاقی حکومت کے تعاون کی پیشکش کا فائدہ اٹھانا سندھ حکومت کا کام ہے ۔پنجاب ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہائوسنگ منصوبوں پر تیزی سے کام ہو رہاہے اور عدالت سے فلور کلویئر لاء کا معاملہ نمٹنے کے بعد ان منصوبوں پر کام آگے بڑھ رہاہے ۔

انہوں نے کہا کہ بنڈل آئی لینڈ منصوبے پر وفاقی حکومت کام کر رہی ہے لیکن سندھ کی حکومت اس کی اجازت نہیں دے رہی ، راوی پراجیکٹ کے علاوہ سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ پراجیکٹ منصوبہ والٹر ایئرپورٹ پر مکمل کیا جارہاہے ، یہ ایک جدید نوعیت کا منصوبہ ہو گا ، راوی پراجیکٹ ، سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ پراجیکٹ اور نیا پاکستان منصوبوں سے 50 لاکھ سے زیادہ گھر بن جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت تنخواہ دار اور مزدورطبقے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے کمزور ترین طبقے کے لئے اخوت این جی او کے ساتھ مل کر گھر بنائے جارہے ہیں اور 7ہزار 8 سو گھر اب تک بن چکے ہیں ، اخوت بلاسود قرضے فراہم کرتی ہے ، وفاقی حکومت اخوت کو فنڈ فراہم کر رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ قبضہ گروپوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی جارہی ہے ، بڑے بڑے شہروں میں طاقتور لوگ قبضہ گروپ بنے ہوئے ہیں اور ان کے سیاستدانوں کے ساتھ رابطے ہیں ۔ لاہور میں ایک بڑا قبضہ گروپ پچھلی حکومت کی سیاسی قیادت کے ساتھ ملا ہوا تھا اور یہ اتنے طاقتور لوگ تھے کہ پولیس بھی ان کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتی تھی ۔ پنجاب حکومت 200ارب روپے سے زائد کی زمینیں قبضہ گروپوں سے چھڑا چکی ہے ، وزیراعظم نے کہاکہ سمندر پار پاکستانیوں کے مقدمات تیزی سے نمٹانے کے لئے خصوصی عدالتیں بنائی گئی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہاکہ اپوزیشن شروع دن سے موجودہ حکومت کو ناکام کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن ہر حکومت کی کارکردگی کا اندازہ 5سال کے بعد ہی لگایا جاسکتا ہے ، موجودہ حکومت کو اڑھائی سال کا عرصہ گزر چکا ہے اب اس کے اقدامات کے اثرات سامنے آئیں گے ، ہم نے 50سال کے بعد 2بڑے ڈیموں پر کام شروع کیا ہے ، ماضی میں ڈیم اس لئے نہیں بنائے جاتے تھے کہ یہ 5سال میں مکمل نہیں ہو سکتے تھے اور ماضی کی حکومتیں چاہتی تھیں کہ انتخابی مہم شروع ہونے سے پہلے اپنے منصوبے مکمل کر لیں۔

یہ انہوں نے ملک پر ظلم کیا اور اسی لئے ہمارے پاس آبی ذخائر نہیں ہیں جبکہ ہندوستان اور چین کہاں سے کہاں نکل گئے ۔ انہوں نے کہاکہ اب ہائوسنگ اور دیگر منصوبوں کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے ، دو نئے شہروں کا قیام بھی عمل میں آجائے گا ، تعمیرات کے شعبے میں دی جانی والی مراعات کے نتائج اسی سال نظر آئیں گے اور اس سے معیشت ترقی کرے گی ، روز گار کے مواقع بڑھیں گے ۔

وزیراعظم نے کہاکہ آئندہ ماہ فوڈ سیکیورٹی پر وفاقی حکومت ایک بڑے منصوبے کا اعلان کرے گی ، ماضی میں فوڈ سیکیورٹی پر کسی نے توجہ نہیں دی ، پہلی بار تمام شہروں کے ماسٹر پلان بنائے جارہے ہیں جب تک ماسٹر پلان نہیں بنیں گے گرین بیلٹس اور فوڈ سیکیورٹی کے لئے مختص علاقوں کا کیسے پتہ چلے گا۔ ماسٹر پلان بننے کے بعد شہروں کا پھیلائو رکے گا اور ترقی ہو گی کیونکہ اگر شہر پھیلتے جائیں گے تو اس سے بجلی ، گیس ، پانی کی فراہمی، فوڈ سیکیورٹی اور صفائی کے شعبوں میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link