بھارت کی جانب سے اپنی سیکورٹی ضروریات سےزائد ہتھیاروں کی خریداری سے خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات لا حق ہیں، ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ

207

اسلام آباد۔: ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے واضح کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے اپنی سیکورٹی ضروریات سے زائد ہتھیاروں کی خریداری سے خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات لا حق ہیں۔ پاکستان نے کوڈ19ویکسین کی خریداری سے متعلق بھارت کیساتھ کوئی دو طرفہ معاہدہ نہیں کیا ہے،ویکسین بھارت نہیں بلکہ انٹر نیشنل ویکسین الائنس گاوی فراہم کرے گا۔

جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بھارت کی جانب سے پاکستان کو کوڈ19کی 45ملین خوارک کی فراہمی سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی ویکسین الائنس گاوی نے کوویکس کے تحت پاکستان سمیت متعدد ممالک کو ویکسن کی خوراکیں فراہم کرنیکی پیش کش کی تھی۔

پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر کی نیپال میں گمشدگی کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ حکومت پاکستان کی درخواست پر نیپال نے اس معاملے کی تحقیقات کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی لیکن اس سلسلے میں تاحال کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اس بات کے نہایت مضبوط شواہد ہیں کہ حبیب زاہد کےا غوا میں بھارتی ایجنسیوں سمیت بھارتی شہری ملوث ہیں جنہوں نے رپورٹ کے مطابق حبیب زاہد کیساتھ لومبانی ائر پورٹ میں ملاقات کی تھی اور ان کیلئے ہوٹل اور ٹکٹ کی ریزرویشن کیا تھا۔ترجمان نے کہا کہ اہلخانہ کی درخواست پر جبری گمشدگی سے متعلق یو این ورکنگ گروپ نے بھی کیس رجسٹرڈ کیا ہے۔ترجمان نے متعلقہ بھارتی حکام پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کا احترام کرے اورحبیب زاہد کی فوری رہائی کیلئے یو این ورکنگ گروپ کیساتھ تعاون کرے۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اپنی سیکورٹی ضروریات سے زائد ہتھیاروں کی خریداری سے خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات لا حق ہیں۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان امن عمل میں سہولت کاری فراہم کی ہے۔

پاکستان کی مثبت سہولت کاری سے امریکہ طالبان امن معاہدہ اور بین الافغان بات چیت ممکن ہوئی ہے۔پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ افغان تنازعہ کوئی فوجی حل ممکن نہیں ہے اور یہ مسلہ صرف سیاسی عمل کے زریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغان امن عمل اور حتمی سیاسی تصفیئے میں تیزی لانے کیلئے امریکہ کی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے۔کشمیر سے متعلق ترجمان نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے ،اس مقصد کیلئے بھارت نے اب تک وہاں مستقل آباد کاری کیلئے 3.28ملین غیر کشمیریوں کو جعلی ڈومیسائل جاری کئے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ اس قسم کے تمام اقدامات غیر قانونی فوری منسوخ کرنیکی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری برادری اور عالمی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کر رہی ہیں۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ سارک اہم علاقائی فورم ہے اور پاکستان سارک سمٹ کے انعقاد اور اس عمل کیلئے پر عزم ہے۔ترجمان نے کہا کہ سارک سمٹ کے انعقاد میں حائل تمام مصنوعی رکاوٹیں دور کرنیکی ضرورت ہے۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link