بھارت کا دنیا کے سامنے بے نقاب ہونا پاکستان کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے ، ڈاکٹر معید یوسف

182

اسلام آباد۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ مانیٹرنگ رپورٹ سے واضح طور پر حقائق دنیا کے سامنے آ گئے ہیں اور یہ رپورٹ 100 فیصد پاکستان کے موقف کو سپورٹ کر رہی ہے، اگر عالمی برادری نے پھر بھی بھارت کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیا تو یہ زیادتی ہو گی، بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو رہا ہے جو کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے، اب عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت پر دبائو ڈالے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ اتوار کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے بھارت کے پاکستان میں دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے حوالے سے دنیا کے سامنے اپنا موقف پیش کرتا رہا ہے لیکن دنیا نے ہر بار اسے تسلیم نہیں کیا اور ہم ڈو مور ڈومور سنتے آئے ہیں لیکن اب یورپین یونین ڈس انفولیب کے انکشافات اور اقوام متحدہ کی اپنی مانیڑنگ رپورٹ نے بھارت کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے پاکستان میں دہشتگردی منصوبوں میں ملوث ہونے کے حوالے سے دنیا کے سامنے ڈوزیئر پیش کیا ہے، ای یو ڈس انفولیب انکشافات اور اقوام متحدہ کی مانٹیرنگ رپورٹ کے بعد اب کوئی ابہام نہیں رہا کہ پاکستان کا موقف بالکل 100 فیصد درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے خاموش ہو گیا ہے، کچھ کر نہیں رہا تو یہ بات درست نہیں ہے، یہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ بھارت دنیا کے سامنے بے نقاب ہوتا جا رہا ہے، نیویارک سٹیٹ کا بھی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے موقف سامنے آ گیا ہے، اب عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت پر مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد کروانے کیلئے دبائو ڈالے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ بھارت کئی سالوں سے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کے خواب دیکھ رہا ہے یہ کوئی نہیں بات نہیں ہے، پاکستان چاہتا ہے کہ اقوام متحدہ میں انصاف پر مبنی ریفارمز ہوں، ایسے ممالک جو انسانی حقوق کی پامالیوں اور دہشتگردی پھیلانے میں ملوث ہوں ان کی سلامتی کونسل میں بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں ہے، ہمارا موقف واضح ہے اور پاکستان کسی صورت بھی اسے قبول نہیں کرے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ او آئی سی مسئلہ کشمیر کے ایجنڈے کو لیکر چل رہا ہے جس پر ہم اس کے مشکور ہیں، حال ہی میں او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں بھی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مضبوط قرارداد پیش کی گئی ہے۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link