این سی او سی کا یکم سے 14 فروری تک گھر گھر ویکسینیشن مہم “ہر پاکستانی کورونا سے محفوظ” شروع کرنے کا اعلان،اس مہم میں 55 ہزار سے زائد ویکسی نیشن ٹیمیں گھر گھر جا کر افراد کو ویکسینیشن کریں گی، وفاقی وزیر اسد عمر کی پریس کانفرنس

170

اسلام آباد: نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) نے منگل کے روز کورونا کی وبا سے بچائو کے لیے یکم سے 14 فروری تک گھر گھر ویکسینیشن مہم “ہر پاکستانی کورونا سے محفوظ” شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مہم کا آغاز (آج )منگل سے کیا گیا ہے جس میں 12 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کو کورونا سے بچائو کی ویکسین لگائی جائے گی۔ اس مہم میں 55 ہزار سے زائد ویکسی نیشن ٹیمیں گھر گھر جا کر افراد کو ویکسینیشن کریں گی۔ اسد عمر نے ایک بار پھر عوام سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی حفاظت کو یقینی بنانے اور وبائی امراض سے نجات کے لیے مہم میں ان ویکسی نیشن ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

منگل کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات اسد عمر کا کہنا تھا کہ اب تک آٹھ کروڑ سے زائد افراد کو مکمل ویکسین لگائی جا چکی ہے جب کہ دس کروڑ کے قریب افراد کو ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لگائی جا چکی ہے۔ کل 18 کروڑ افراد کو کورونا سے بچائو کیلئے ویکسین کی ایک خوراک لگائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً 26 لاکھ افراد کو بوسٹر ویکسین کی خوراک بھی لگائی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اومیکرون کے پھیلائو کے دوران یہ واضح طور پر دیکھا گیا کہ جن شہروں میں ویکسینیشن کا تناسب زیادہ ہے وہاں پر بانسبت ان علاقوں میں جہاں ویکسینیشن کا تناسب نسبتاً کم ہے وہاں پر اسکا پھیلائو کم ہے۔

مہم کے دوران 55 ہزار سے زائد موبائل ٹیمیں گھر گھر جا کر ان لوگوں کو ویکسینیشن کریں گی جنہیں ابھی تک کورونا سے بچائو کی ویکسین نہیں لگائی گئی ہے۔ اس مہم کے دوران 3 کروڑ 50 پچاس لاکھ سے زائد افراد کو کورونا سے بچائو کی ویکسین لگائی جائے گی۔ اسد عمر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کورونا سے بچائو کیلئے اپنی مکمل ویکسینیشن کروائیں اور جن لوگوں نے ابھی تک ویکسین کی اپنی دوسری خوراک نہیں لگوائی وہ ویکسین کی خوراک فوراً لگوائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ لوگ جنکو ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوائے ہوئے چھ ماہ ہو چکے ہیں وہ لازماً اس ویکسین کی بوسٹر ڈوز لگوائیں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے پڑوسیوں، رشتہ داروں وغیرہ کو ویکسینیشن کے اس موقع سے آگاہ کریں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے پریس کانفرنس میں شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کورونا سے بچائو کی ویکسین لگانے موبائل ٹیموں کو سپورٹ کریں کیونکہ کووڈ-19 کی ویکسین انہیں وائرس کی مختلف اقسام سے ہونے والی طبی پیچیدگیوں سے بچانے کے لیے بہت موثر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مہم کے آغاز سے بہت سے شہری جنہوں نے پہلے ویکسین نہیں لگوائی انکو اب اس مفت سہولت سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا تاکہ وہ اس وائرس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے بچ سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ زیادہ پیچیدگیوں اور ہسپتال میں داخل ہونے سے بچنے کے لیے کورونا وائرس کے خلاف ویکسینیشن ضرور کروائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بوسٹر شاٹس بھی حکومت کی طرف سے ملک میں ویکسین کی دو عام خوراکوں کی طرح مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ حکومت کے اس اقدام کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں جس سے نہ صرف انہیں اومی کرون کی نئی قسم سے تحفظ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بیماری سے بچنے اور عام زندگی گزارنے کا واحد آپشن ویکسینیشن کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں گزشتہ ایک سال سے کوویڈ- 19 کے خلاف ویکسینیشن جاری تھی جبکہ حکومت کو گزشتہ دو سالوں سے اس بیماری کے خلاف جنگ میں کئی چیلنجز کا سامنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام ویکسینیشن مراکز پر کووڈ-19 ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں شہریوں کی بڑی تعداد کورونا ویکسین سے بچائو کی ویکسین لگائی گئی ہے۔ انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ اس بیماری سے بچنے کے لیے دفاتر اور بازاروں میں کووڈ-19 کے معیاری آپریٹنگ طریقہ پر سختی سے عمل کریں۔

انہوں نے کہا کہ کوویڈ 19 ایک مہلک وائرس ہے لیکن ہم اسے اسی طرح کنٹرول کرسکتے ہیں جس طرح ہم نے پچھلی لہروں کے دوران ایس او پیز پر عمل کرکے اسے کنٹرول کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایس او پیز پر عمل درآمد میں مکمل تعاون کی خواہاں ہے۔”ہم احتیاطی تدابیر اختیار کرکے قیمتی جانوں کو بچا سکتے ہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ماسک پہنیں، سماجی فاصلہ برقرار رکھیں، بار بار صابن سے ہاتھ دھوئیں اور ہجوم والی جگہوں سے گریز کریں۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link