این سی او سی نے ملک بھر میں شادی ہالوں کے اندر شادی تقریبات کے انعقاد پر پابندی عائد کردی وفاقی وزیر اسد عمر کی سربراہی میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی )کا اجلاس

151

اسلام آباد: این سی او سی نے ملک بھر میں شادی ہالوں کے اندر شادی تقریبات کے انعقاد پر پابندی عائد کردی،کاروباری سرگرمیاں شام 8بجے تک محدود ۔این سی اوسی 24مارچ کو ایجوکیشن سیکٹر کے حوالے سے اہم فیصلہ کرے گی ۔ پیر کے روز وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کی سربراہی میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی )کا اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریوں نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی ۔

اجلاس میں کورونا وباء کی بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور متفقہ طور پر اس بات کا اعادہ کیا کہ جن شہروں اور اضلاع میں 8فیصد سے زائد کورونا کے مثبت کیسز رپورٹ ہورہے ہیں ان میں سخت اقدامات پر عملدرآمد کیا جائے گا ۔ 8فیصد سے کم مثبت کیسز والے شہروں میں پہلے سے نافذ احتیاطی تدابیر کو سختی سے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کورونا وباء ک خطرے کو مد نظر رکھتے ہوئے پروٹوکولز کے ساتھ وسیع تر لاک ڈائونز نافذ کیے جائیں گے اور ہنگامی صورتحال کے سوا کسی بھی نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہوگی ۔این سی اوسی نے ہر طرح کی انڈور ڈائننگ پر پابندی لگادی ہے اور آئوٹ ڈور ڈائننگ کی اجازت رات دس بجے تک ہوگی ۔

جبکہ ٹیک اوے کی معمول کے مطابق اجازت ہوگی ۔ کم ضروری سروسز کو رات 8بجے بند کر نے کا فیصلہ کیا گیا اس کے علاوہ ہفتے میں دو روز تحفظ کے نام پر کاروباری سرگرمیاں بند رکھی جائیں گی تاہم دنوں کا تعین صوبائی حکومتوں کی صوابدید پر ہوگا ۔ تین سو افرادتک مشتمل اجتماعات کی کورونا ایس او پیز پر سخت عملدرآمد کی اجازت دی گئی ہے جبکہ تمام قسم کی انڈور اجتماعات جن میں ثقافتی ، فنی ، مذہبی اور دیگر متفرق اجتماعات شامل ہیں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔ا جلاس میں سینمائوں اور مزارات کو مکمل بند رکھنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ کھیلوں اور ثقافتی فیسٹیول پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔

شادی بیاہوں کے فنکشنز کھلے آسمان تلے دس بجے تک کرنے کی اجازت ہوگی جس میں مہمانوں کی تعداد تین سو تک محدود ہوگی اس دوران کورونا کے ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرتے ہوئے صرف دو گھنٹے کے لیے تقریب کے انعقاد کی اجازت ہوگی جبکہ شادی ہالوں کے اندر شادی کی تقریبات کے انعقاد پر پابندی لگا دی گئی ہے ۔ تمام تفریحی پارکس کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ چہل قدمی اور جاگنگ ٹریکس کھلے رہیں گے ۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پچاس فیصد ورک فراہم ہوم پالیسی جاری رہے گی اور اس پالیسی کا اطلاق سرکاری اور نجی دفاتر سمیت عدالتوں پر بھی ہوگا ۔

انٹر سٹی عوامی ٹرانسپورٹ پچاس فیصد کیپسٹی کے ساتھ کام جاری رکھے گی جبکہ ریلوے سروس کو ستر فیصد کیپسٹی کے ساتھ کام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ تمام صوبے ماسک پہننے کو یقینی بنائیں گے اور اس اقدام پر عملدرآمد کرنے کیلئے جدید طریقہ کار کو عمل میں لایا جائے گا ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام عدالتوں میں کم حاضری یقینی بنائی جائے گی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان ،خیبر پختونخوا اور آزاد جموں کشمیر میں سیاحتی مقامات پر آنے والے سیاحوں کو سخت حفاظتی پروٹوکولز پر عمل کرنا ضروری ہوگا جبکہ داخلی یا مختص کردہ مقامات پر سینٹی نل ٹیسٹنگ پوائنٹس لگائے جائیں گے ۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ قابل تعزیرانہ اقدامات کو اجاگر کرنے کیلئے میڈیا کوریج کو بروئے کار لایا جائے گا ۔این سی اوسی کے یہ تمام فیصلے 11اپریل 2021تک نافذ العمل ہوں گے جبکہ کمیٹی 7اپریل کو کیے گئے فیصلوں پر نظر ثانی کرے گی ۔ 10مارچ 2021سے نافذ العمل ایجوکیشن سیکٹر کے حوالے سے فیصلوں پر نظر ثانی 24مارچ 2021کو این سی اوسی کے اجلاس میں کی جائے گی ۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link