اپوزیشن کسی نظریہ کیلئے نہیں بلکہ اپنی کرپشن بچانے کیلئے اکٹھی ہوئی ہے، اپنے خلاف کرپشن کے مقدمات ختم کرانے کیلئے حکومت کو بلیک میل کر رہے ہیں ، وزیراعظم عمران خان کا ”آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ“ میں گفتگو

103

:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کسی نظریہ کیلئے نہیں بلکہ اپنی کرپشن بچانے کیلئے اکٹھی ہوئی ہے، اپنے خلاف کرپشن کے مقدمات ختم کرانے کیلئے بلیک میل کر رہے ہیں، ان کا خیال تھا کہ حکومت اس معاشی بحران سے نہیں نکل سکے گی جو یہ چھوڑ کر گئے اور ڈوب جائے گی، ہم مشکل وقت سے نکل آئے ہیں، تمام اقتصادی اشاریے مثبت نشاندہی کر رہے ہیں، ملک معاشی طور پر آگے بڑھ رہا ہے، حکومت کی معاشی کامیابیاں دیکھ کر اپوزیشن گھبرائی ہوئی ہے،

رواں مالی سال کے دوران اب تک 4143 ارب روپے کی ٹیکس وصولی ہوئی ہے، اندازہ ہے کہ شرح نمو رواں مالی سال کے دوران 4.5 فیصد تک جائے گی، پنجاب پولیس کو بھی ٹھیک کریں گے، کسی کی زمین پر اگر قبضہ ہے تو سٹیزن پورٹل پر شکایت کرے واپس دلائیں گے، پنجاب، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد کا زمین کا ریکارڈ اگست تک مکمل کمپیوٹرائزڈ ہو جائے گا، عدالتوں سے مقدمات کے جلد فیصلے کرانے کیلئے عدلیہ کی مشاورت سے قانون بنایا جائے گا، راولپنڈی رنگ روڈ انکوائری کا نتیجہ دو ہفتوں میں آ جائے گا، بھارت اور اسرائیل ظلم کے ذریعے کشمیریوں اور فلسطینیوں کو نہیں دبا سکتے، اگر بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لائیں تو یہ کشمیریوں سے غداری ہو گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو ”آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ“ پروگرام کے دوران شہریوں کی طرف سے ٹیلی فون پر پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے، اﷲ تعالیٰ کو ایسا شخص بہت پسند ہے جو مشکل میں صبر کرے، زندگی اونچ نیچ کا نام ہے، ایک دم سے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی، صرف قصے اور کہانیوں میں ایسا ہوتا ہے کہ ایک دم سب کچھ ٹھیک ہو جائے لیکن عام زندگی میں کامیابی کیلئے جدوجہد اور صبر سے آگے بڑھنا ہوتا ہے، مشکل وقت میں سیکھنے سے ہی انسان آگے بڑھتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو ملک کو مشکل صورتحال کا سامنا تھا، ہمیں ورثے میں بے تحاشا مسائل ملے، کسی حکومت کو اتنا بڑا خسارہ نہ ہی قرضوں کا اتنا بڑا بوجھ ورثے میں ملا جس کا سامنا ہمیں تھا، ہمیں ملک بھی چلانا تھا اور قرضوں کی بھاری قسطیں بھی ادا کرنا تھیں، میں نے پہلے ہی دن قوم سے کہا تھا کہ ہمیں مشکل صورتحال سے گزرنا پڑے گا کیونکہ ہم دیوالیہ ہونے والے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن کو 4 فیصد گروتھ ریٹ کی کوئی امید نہیں تھی، آزاد ماہرین کا خیال ہے کہ یہ 4 فیصد سے بھی اوپر جائے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی بے روزگاری عام آدمی کی دو بڑی مشکلات ہیں، معیشت کا پہیہ چل پڑا ہے، صنعتیں ترقی کر رہی ہیں، اس سے غربت میں کمی آئے گی اور روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں ٹریکٹروں، گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے، تعمیرات کی صنعت بہت ترقی کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن پہلے ہی دن سے کہہ رہی ہے کہ ہماری حکومت نااہل ہے اس لئے ہمیں نکال دینا چاہئے، یہ فوج کو کہتے ہیں کہ ان کی حکومت گرائو، ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں این آر او دیا جائے ورنہ یہ حکومت نہیں چلنے دیں گے، انہیں اندازہ نہیں تھا کہ معاشی صورتحال بہتر ہو جائے گی اور گروتھ ریٹ 4 فیصد تک ہو جائے گا، اب یہ پھنس گئے ہیں، اس لئے کہہ رہے ہیں کہ اقتصادی اعداد و شمار ہی غلط ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم مشکل صورتحال سے نکل آئے ہیں، اب ملک کو اقتصادی لحاظ سے آگے بڑھتا دیکھیں گے۔ کوآپریٹو سوسائٹی کی طرف سے رقم کی وصولی کے باوجود پلاٹ نہ دیئے جانے سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت نے پہلی مرتبہ پاکستان میں ایک بورڈ بنایا ہے جو یہ فیصلہ کرے گا کہ ہائوسنگ سوسائٹیوں کے معاملات کا جائزہ لے گا اور یہ طے کرے گا کہ کونسی ہائوسنگ سوسائٹیاں قانونی ہیں اور انہوں نے قانونی تقاضے پورے کئے ہیں تاکہ عوام کو پلاٹ لیتے وقت سوسائٹی کے حوالہ سے معلومات دستیاب ہوں، غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کو بند کریں گے لیکن کچھ غیر قانونی سوسائٹیاں جو اب بن چکی ہیں ان کیلئے کچھ الگ سے سوچا جا رہا ہے، جسٹس عظمت کی سربراہی میں کمیٹی بنائی ہے جو اس حوالہ سے صورتحال کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گی۔

کشمیر اور فلسطین کے حوالہ سے خارجہ پالیسی سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ بھارت سے اچھے تعلقات ہماری خواہش ہے اور ایک طرف چین اور دوسری طرف بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات سے بہت فائدہ ہو سکتا ہے، میں نے اقتدار میں آتے ہی بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری کیلئے کوشش کی لیکن موجودہ صورتحال میں اگر ہم بھارت سے تعلقات کو معمول پر لاتے ہیں تو یہ کشمیر کے ساتھ عوام کے ساتھ بہت بڑی غداری ہو گی، اس طرح ہم کشمیریوں کی جدوجہد اور ان کی قربانیوں کو نظر انداز کریں گے اس لئے بھارت کی طرف سے 5 اگست کے اقدامات واپس لئے جانے تک تعلقات معمول پر نہیں آ سکتے، ہم کشمیری عوام کے ساتھ ہیں اور ان کے خون کی قیمت پر بھارت سے تجارت نہیں کریں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ ظلم و جبر اور فلسطینیوں کو ڈرا دھمکا کر نہیں حل ہو سکتا، فلسطینی عوام غلام نہیں بنیں گے، آج امریکہ سمیت پوری دنیا میں فلسطینیوں پر مظالم کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں، دو ریاستوں کا قیام ہی مسئلے کا حل ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں نئے آبی ذخائر کی تعمیر کی ضرورت ہے، ہماری حکومت اگلے 10 سال میں 10 ڈیم بنا رہی ہے، پانی کی تقسیم کیلئے جدید ٹیلی میٹری سسٹم لا رہے ہیں، ضرورت پڑی تو سندھ میں پانی کی منصفانہ تقسیم کیلئے رینجرز کی مدد بھی حاصل کی جائے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ سب صوبوں کے پانی کے حصے میں کمی آ رہی ہے، ڈیم بنانا اور پانی کی منصفانہ تقسیم ہی مسئلے کا حل ہے، صوبوں کے اندر پانی کی تقسیم بھی بہت بڑا مسئلہ ہے، طاقتور لوگ اپنی زمین پر پانی لے جاتے ہیں جبکہ کمزور کسان کے حصے کا پانی چوری ہو جاتا ہے اور اس کی زمینیں خشک رہتی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ جن صوبوں میں ہماری حکومت ہے وہاں پانی کی تقسیم کو بہتر بنائیں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ جو ہائوسنگ سوسائٹیاں غیر قانونی طور پر بن چکی ہیں ان کو جرمانے کرکے اور کچھ ضابطوں کی پابندی کے بعد ریگولر کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا، اس سلسلہ میں ہم کام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ راولپنڈی کو رنگ روڈ کی ضرورت ہے، نالہ لئی پر بزنس ڈسٹرکٹ بنانا چاہتے ہیں، مجھے اطلاع ملی تھی کہ رنگ روڈ کے معاملہ میں فراڈ ہو رہا ہے اور طاقتور لوگوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے اسے لمبا کیا جا رہا ہے اور الائنمنٹ تبدیل کرکے زیگ زیگ کی صورتحال میں لوگوں کو فائدہ پہنچایا گیا ہے، میں نے اس معاملہ کی انکوائری کرائی اور الزام درست ثابت ہونے پر اب اس معاملہ کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جلد اس کا نتیجہ سامنے آئے گا لیکن یہ رنگ روڈ بنے گی اور ویسے بنے گی جیسے اسے ہونا چاہئے تھا۔

انتخابی اصلاحات سے متعلق ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ میں نے بہت کم دوستوں کے ساتھ سیاست کا آغاز کیا اور سیاست میں جیسا تجربہ میرے پاس ہے ویسا کسی کے پاس نہیں ہے، میں اکیلا تھا اور میں نے سیاسی جدوجہد اور سیاسی عمل کے دوران بہت کچھ دیکھا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پی ڈی ایم دوبارہ اکٹھی ہو رہی ہے، یہ قوم کیلئے اکٹھے نہیں ہو رہے نہ ہی کسی نظریے کیلئے جمع ہوئے ہیں بلکہ یہ اپنی کرپشن بچانے کیلئے بلیک میل کر رہے ہیں تاکہ ان کے خلاف کرپشن کے مقدمات ختم ہو جائیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے 30 سال حکومت کی ہے، جس کے پاس سائیکل نہیں تھی وہ آج قیمتی گاڑیوں کے مالک ہیں اور لندن میں اتنی قیمتی جائیدادوں کے مالک بن گئے ہیں جو برطانیہ کا وزیراعظم بھی نہیں خرید سکتا، عوام ان کو این آر او دلانے اور ان کی چوریاں بچانے کیلئے نہیں نکلیں گے، ان کا خیال تھا کہ حکومت اس معاشی بحران سے نہیں نکل سکے گی جو یہ پیدا کرکے گئے تھے، یہ سوچ رہے تھے کہ حکومت ڈوب جائے گی لیکن اب انہیں نظر آ رہا ہے کہ معاشی صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور ملک آگے جا رہا ہے اس لئے اب یہ پھر سے کوشش کریں گے لیکن قوم ان کی حقیقت جانتی ہے، ان کی صرف یہ خواہش ہے کہ جس طرح پہلے ان کی پانچوں انگلیاں گھی میں تھیں پھر سے ویسا ہی ہو جائے۔ زرعی شعبہ سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ اگر ہم اپنی زمین پانی اور سورج کی روشنی اور وسائل کا صحیح استعمال کر لیں تو ہم دنیا کو اناج دے سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں زراعت پر توجہ نہیں دی گئی، کسان کی مدد نہیں کی گئی، آبی ذخائر نہیں بنائے گئے، زرعی تحقیقات اور ٹیکنالوجی کو بروئے کار نہیں لایا گیا لیکن ہماری حکومت اس سلسلہ میں کام کر رہی ہے، گنے کی قیمت کی فوری اور پوری ادائیگی کو یقینی بنایا، طاقتور لوگ جو شوگر ملوں کے مالک تھے کین کمشنر کو پیسے کھلاتے تھے انہوں نے کارٹیل بنائے ہوئے تھے، قیمتیں خود طے کرتے تھے اور سٹہ کھیلتے تھے، ہماری حکومت ان کو قانون کے ماتحت لائی، کسانوں کو جب پورا پیسہ ملا تو انہوں نے اپنی زمینوں پر لگایا جس سے ریکارڈ فصلیں ہوئی ہیں، گندم 8.1 فیصد، چاول اور مونگی 13.6 فیصد، گنا 22 فیصد اور مکئی کی پیداوار 7.4 فیصد بڑھی ہے، کسانوں کے پاس مزید پیسہ آیا ہے کیونکہ ان کو فصلوں کی بہتر قیمت ملی ہے، اب ہم زرعی ٹیکنالوجی کو بہتر کر رہے ہیں، کسان کو مڈل مین اور آڑھتی کی وجہ سے اس کی فصل اور پیداوار کی پوری قیمت نہیں ملتی، تین، چار گنا پیسہ مڈل مین اور آڑھتی کما رہا ہے، ہم چین کی طرح ایسا نظام لا رہے ہیں کہ کسان کی فصل براہ راست منڈی میں پہنچے، اس کیلئے ورچوئل مارکیٹ اور سٹوریج بنا رہے ہیں، 900 نئی سٹوریج فیسیلیٹی بنا رہے ہیں، ٹرانسپورٹیشن کو بھی بہتر کر رہے ہیں کیونکہ 30 فیصد پھل اور سبزیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔ فوڈ پروسیسنگ کیلئے قرضے دیں گے، کسان کو جتنا زیادہ فائدہ ہو گا وہ اپنی زمین پر اتنا ہی زیادہ لگائے گا۔

وزیراعظم نے صحت کارڈ سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں عوام نے 10 ارب روپے کی طبی سہولیات سے استفادہ کیا ہے، صحت کارڈ کے ذریعے کوئی بھی غریب آدمی کسی بھی ہسپتال سے 10 لاکھ روپے تک کا علاج معالجہ کرا سکتا ہے، ڈی جی خان اور ساہیوال ڈویژن میں بھی صحت کارڈ دے دیئے ہیں، اس سال کے اختتام تک پنجاب بھر میں صحت کارڈ کی سہولت دستیاب ہو گی، اس کے ذریعے 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک کا علاج معالجہ ہو سکے گا اور اگر ضرورت پڑی تو مزید رقم بھی فراہم کی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس سہولت کا مقصد یہ ہے کہ عام آدمی کو علاج معالجہ کرانے کیلئے کسی مشکل اور فکر کا سامنا نہ ہو، میں نے شوکت خانم ہسپتال اسی لئے بنایا تھا کہ غریب لوگ مہنگا علاج کرانے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، صحت کارڈ ایک پورا صحت کا نظام ہے،

حکومت کے پاس ہسپتالوں کیلئے پیسہ نہیں ہوتا تھا اور سرکاری ہسپتالوں کا نظام بھی ٹھیک نہیں تھا، چھوٹے علاقوں میں ڈاکٹرز کی دستیابی کا بھی مسئلہ تھا، اب صحت کارڈ کے ذریعے صحت کا پورا شعبہ بہتر ہو جائے گا اور پرائیویٹ سیکٹر بھی دیہات میں ہسپتال بنائے گا، ہسپتالوں کیلئے طبی آلات فری کر رہے ہیں، ہسپتالوں کو اوقاف، متروکہ وقف املاک اور ریلوے کی زمینیں سستے داموں فراہم کی جائیں گی، اس سے پرائیویٹ ہسپتالوں کا جال بچھ جائے گا، ہر شہری کا شناختی کارڈ ہی صحت کارڈ ہو گا۔ ایف بی آر کے حوالہ سے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر نے ریکارڈ محصولات جمع کی ہیں، اب تک 4 ہزار 143 ارب کے محصولات جمع ہو چکے ہیں،

کورونا کے باوجود حکومت نے لوگوں کو ایک طرف بھوک کے ہاتھوں مرنے سے بچایا اور دوسری طرف حکومت نے بہترین اقدامات کی بدولت کورونا کی صورتحال پر بھی قابو پایا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کے نظام کو آٹومیشن پر لے جا رہے ہیں تاکہ کرپشن کا خاتمہ ہو، جولائی، اگست تک آٹومیشن کا نظام نافذ ہو جائے گا، ٹریک اور ٹریس سسٹم سے ٹیکس وصولی میں اضافہ ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ادارے بنانے میں وقت لگتا ہے اور جو ادارے خراب ہو چکے ہوں ان کی اصلاح سب سے مشکل کام ہے، پنجاب پولیس کو ماضی میں ذاتی مفاد کیلئے استعمال کیا جاتا رہا، نواز شریف 1985ءسے 1993ءتک وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کے عہدوں پر رہے، اس دور میں پنجاب پولیس میں 25 ہزار افراد میرٹ کے برعکس بھرتی کئے گئے، زیادہ تر کو پیسے لے کر بھرتی کیا گیا اور کئی ان میں مجرم بھی تھے، جب پولیس کو غلط چیزوں کیلئے استعمال کیا جائے گا تو وہ ٹھیک کیسے ہوتی، پولیس کو مخالفین کے خلاف بھی استعمال کیا جاتا رہا، ماورائے عدالت ہلاکتیں کرائی گئیں، پولیس مقابلوں کے نام پر لوگوں کو مروایا گیا، یہ قبضہ گروپ بھی ایسے ہی بنتے ہیں اور ان سے قبضے کرائے جاتے ہیں، پولیس کی مدد حاصل ہوتی ہے، ہماری حکومت نے ایسے قبضہ گروپوں سے زمینیں چھڑائی ہیں، ان میں (ن) لیگ ارکان اسمبلی بھی تھے جن سے پولیس ملی ہوئی تھی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پولیس کے نظام میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں، 30 سال پولیس میں نیچے سے اوپر تک جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور جس طریقے سے پولیس کو سیاسی سرپرستی رہی ہے اسے ٹھیک کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا لیکن خیبرپختونخوا پولیس کی طرح پنجاب پولیس کی بھی لوگ تعریف کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ اگر کسی کی زمین پر کسی نے قبضہ کر رکھا ہے تو وہ سٹیزن پورٹل پر شکایت کرے، اگر اس کی شکایت درست ہوئی تو اسے زمین واپس دلائی جائے گی،

شہروں میں زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹراڈ کیا جا رہا ہے، اگست تک پنجاب، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد میں زمین کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہو جائے گا، پرانے نظام میں پٹواری کو ساتھ ملا لیا جاتا ہے اور اگر عدالتوں میں معاملہ چلا جائے تو طویل عرصہ تک فیصلہ نہیں ہوتا، پنجاب میں ضابطہ دیوانی کے حوالہ سے عدلیہ کی مشاورت سے قانون سازی کی جائے گی، خیبرپختونخوا میں اس حوالہ سے پہلے ہی قانون بن چکا ہے تاکہ مقدمات کے جلد فیصلے ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ قوموں کی کردار سازی سے معاشرے ترقی کرتے ہیں، مدینہ کی ریاست قانون کی بالادستی اور انصاف کے نظام پر قائم کی گئی تھی، یہی وجہ ہے کہ حضور اکرمﷺ چونکہ خود صادق اور امین تھے اس لئے ان کے صحابہؓ بھی دنیا کے بڑے لیڈر بن گئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں مسلمانوں کا کردار دیکھ کر ہی لوگوں نے اسلام قبول کیا، داتا گنج بخشؒ، حضرت نظام الدین اولیاؒ، معین الدین چشتیؒ، بابا بلھے شاہ اور دیگر بزرگان دین کے کردار کی وجہ سے اسلام پھیلا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حکومت کرنے والے دو خاندانوں کے پاس اتنی دولت ہے جتنی برطانیہ کے وزیراعظم کے پاس بھی نہیں ہے، جنگیں ہارنے اور معاشی بحران سے نہیں اخلاقیات ختم ہونے سے قومیں تباہ ہوتی ہیں، اچھے برے کی تمیز جب ختم ہو جائے اور جب یہ کہا جائے کہ کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے تو ملک کیسے ترقی کرے گا، نواز شریف اور آصف زرداری کی کرپشن پر بیرون ملک مضامین شائع ہوئے ہیں، ان پر فلمیں بنائی گئی ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کو بتائیں کہ حضور اکرمﷺ کی سیرت پر عمل کرکے ہی ترقی کی جا سکتی ہے، جس ملک کے ادارے بہتر اور میرٹ پر کام کرتے ہیں وہ آگے نکل جاتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ساتویں سے نویں کلاس تک نصاب میں سیرت نبوی کے بارے میں تعلیم دی جائے گی کیونکہ انہی کو رول ماڈل بنا کر ہم اپنی نسلوں کی کردار سازی کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کوئی بھی فوجی حکومت عدلیہ اور دوسرے اداروں کو کمزور کرکے اقتدار میں آتی ہے، 1988ءکے بعد جو بھی سیاسی لیڈر یہاں آئے انہوں نے بھی اداروں کو کمزور کیا اور ان کا سارا مقصد یہ ہے کہ جو پیسے یہاں سے بیرون ملک لے گئے ہیں انہیں کیسے بچائیں، اگر ان کو معیشت کی پرواہ ہوتی تو آج ہمیں مبارکبادیں دے رہے ہوتے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ جب ہماری شرح نمو 0.5 فیصد تھی تو اس وقت بھی ہم نے اعداد و شمار تبدیل نہیں کئے، ہم جھوٹ بول کر اپنی تعریف کرانے پر یقین نہیں رکھتے۔ وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ملکی تاریخ میں سب سے کم قرضے لئے ہیں، یہ وہ حکومت ہے جس نے پرانے قرضے واپس بھی کئے ہیں اسی لئے اپوزیشن آج گھبرائی ہوئی ہے کہ کسی طرح حکومت گرا دیں لیکن یہ کامیاب نہیں ہوں گے، 2011ءمیں پہلی بار کرنٹ اکائونٹ سرپلس ہے اور اندازہ ہے کہ شرح نمو رواں مالی سال کے دوران 4.5 فیصد تک جائے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی وہ مسئلہ ہے جس کی وجہ سے انہیں رات کو نیند بھی نہیں آتی، مہنگائی کی وجہ سے گھی، آٹا، دالوں، چینی اور دیگر عام اشیاءکی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں جس سے تنخواہ دار اور مزدور طبقہ کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ مہنگائی کےمسئلہ پر قابو پایا جائے، جیسے جیسے زرعی پیداوار بڑھے گی اشیاءکی قیمتیں کم ہوں گی

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link