افغان خانہ جنگی سے پاکستان کو گمبھیرمسائل کا سامنا ہوگا، وزیراعظم

85

اسلام آباد : وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ امریکاافغان مسئلے کا فوجی حل نکالنےمیں ناکام رہا، اب افغانستان میں خانہ جنگی کاخدشہ ہے ، جس سے پاکستان کو گمبھیرمسائل کا سامنا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کا واحد اور بہترین حل سیاسی تصفیہ ہے اور ایسی مخلوط حکومت جس میں تمام فریق شامل ہوں اور ظاہر ہے طالبان بھی اس مخلوط حکومت کا حصہ ہوں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ طالبان خودکوفاتح سمجھ رہےہیں لیکن افغانستان میں بدترین حالات اس وقت ہوسکتے ہیں اگر وہاں خانہ جنگی چِھڑ جائے اور وہ بھی طویل خانہ جنگی، جس سےپاکستان کودہرےمسائل کاسامنا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ امریکا نے دودہائیوں تک فوجی حل نکالنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہا، افغانستان میں ڈیڑھ لاکھ افواج تھی تب حل تلاش کرنا چاہیے تھا ، اب سیاسی مفاہمت ہی افغان مسئلے کا واحد حل ہے۔

انھوں نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن کا شراکت دار ہے اور تنازعہ کا حصہ نہیں بن سکتا، انہوں نے واضح طور پر کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

عمران خان نے کہا کہ طالبان اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے پاکستان نے بطور سہولت کار کلیدی کردار ادا کیا، افغانستان میں کسی بھی قسم کی بدامنی اور انتشار کا اثر براہ راست پاکستان پر پڑے گا اور اسے متعدد مسائل کا سامنا ہوگا۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین 1500 کلومیٹر طویل سرحد ہے اور پہلی بار پاکستان پاک افغان سرحد پر بھاری رقم خرچ کرکے باڑ لگا رہا ہے۔ جس کا کام 90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔”

نائن الیون کے واقعے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ پاکستان کا نائن الیون اور نیویارک کے واقعات سے کوئی لینا دینا نہیں تھا کیونکہ نائن الیون واقعے میں کوئی پاکستانی شہری ملوث نہیں تھا ، لیکن ان واقعات کے بعد ملک کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔

افغانستان میں انتخابات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ افغان صدر اشرف غنی کو انتخابات میں تاخیر کرنی چاہئے تھی ، کیونکہ اس سے طالبان کو سیاسی عمل میں حصہ لینے کا موقع فراہم ہوتا۔

انٹرویو میں زیادتی سے متعلق اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا ، پاکستانی معاشرے سے متعلق بات ہورہی تھی،اس میں کوئی شک نہیں زیادتی کرنے والا ہی جرم کا قصور وار ہے، متاثرہ فرد کبھی بھی اس واقعے کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ خواتین ہی نہیں بچوں کی اکثریت بھی جنسی جرائم کاشکار ہورہی ہے، پردے کا حکم صرف خواتین کیلئے ہی نہیں مردوں کیلئے بھی ہے، اسلام میں پردے کا مقصد معاشرے میں بگاڑ کو روکنا ہے اور اسلام میں خواتین کی عزت اوراحترام کا درس دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا گھومنے کے بعد ذمہ داری سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان سمیت مسلم ممالک میں خواتین کازیادہ احترام کیاجاتاہے تاہم مغرب کے مقابلے میں پاکستان میں زیادتی کے کیسز انتہائی کم ہیں۔

Comments are closed.

Subscribe to Newsletter
close-link